تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 21

بتایا جاتا کہ تمہارا خدا کسی ایک قوم یا ملک کا خدا نہیں بلکہ ساری دنیا کا خدا ہے۔اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ میں وہ خدا ہوں جو ہندوؤں ، عیسائیوں ، آریوں ، دہریوں ، ایرانیوں اور یونانیوں سب کا خدا ہوں میں ہر ملک میں رہنے والوں کا خدا ہوں اور ہر زبان بولنے والوں کا خدا ہوں۔میں گوروں کا بھی خدا ہوں اور کالوں کا بھی خدا ہوں۔دنیا میں جس قدر اقوام ہیں ان سب کا خدا ہوں اور سارے ہی میرے بندے ہیں۔اور میں نے سب کو بیدار اور ہو شیار کرنےکے لئے یہ کلام اتارا ہے یہ تعلیم جو قرآن کریم نے پیش کی ہے کتنی اچھی اور فطرت کے مطابق ہے۔اس تعلیم کے پڑھنے سے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے نہایت گہرے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں لیکن پہلی تعلیموں کو پڑھ کر دل میں نفرت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں جب تک دنیا اکٹھی نہیں ہوئی تھی اور ایک ملک کے لوگ دوسرے ملک کے لوگوں سے جُدا تھے۔اگر اس وقت ایسی تعلیم بھیجی جاتی جو تمام دنیا کے لئے ہوتی تو بہت سے ملک اس تعلیم سے محروم رہ جاتے اس لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف وقتوں میں مختلف تعلیمیں نازل کیں۔وہ تعلیمیں اپنے اپنے وقت میں کامل تھیں اور اُن کے ذریعے مختلف قومیں ہدایت پاتی رہیں لیکن بعد میں جب کہ میل جول کے ذرائع وسیع ہوگئے اور رسل و رسائل کے راستے کھل گئے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی تعلیم نازل فرمائی جو تمام دنیاکے لئے تھی اور تمام دنیا کی ضرورتوں کا علاج اس میں موجود تھا۔تمام مؤرخ اس بات پر متفق ہیں کہ پری ہسٹارک PRE HISTORICزمانہ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے کا زمانہ ہے اور ہسٹارک HISTORIC زمانہ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اِن رسل و رسائل کے ذرائع کو وسیع کر کے بتا دیا کہ اب لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا کا زمانہ آگیا ہے جس میں تمام دنیا کا نقطۂ مرکزی پر جمع ہو نا ضروری ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں بہت برکتوں والا خدا ہوں۔اور پھر اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں نے ایسی کتاب نازل کی ہے جو تمام دنیا کو ہدایت دینے والی ہے اور حق و باطل میں فرق کرکے دکھانے والی ہے او ر جو کلام ایک زمانہ میں نازل ہو کر ہر زمانہ کے لوگوںکے لئے ہدایت کا موجب ہو وہ یقیناً اُس کلام کے بھیجنے والے کی بڑائی اور عظمت پر دلالت کرتا ہے۔چونکہ اس کتاب کے ذریعہ ہر زمانہ کے لوگوں نے ہدایت پانی تھی اس لئے ہر زمانہ کا نام عالم رکھا گیا اور بتایا گیا کہ یہ کتاب قیامت تک آنے والی تمام نسلوں کی ہدایت کا ایک یقینی اور قطعی ذریعہ ہے۔پہلی کتابیں بے شک اپنے اپنے وقت میں ہدایت کا موجب تھیں لیکن وہ اپنے اندر عالمگیر تعلیم نہیں رکھتی تھیں۔یعنی نہ تو تمام قوموںکے لئے تھیں نہ تمام زمانوںکے لئے تھیں۔مگر اب دنیا ایسے مقام پر پہنچ گئی تھی کہ اس کے لئے ایک ہی نذیر کی ضرورت تھی۔پس برکت والے خدا نے ایک بادلیل کتاب اپنے فرمانبردار اور اعلیٰ نمونہ پیش کرنے والے