تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 241

ہوتے۔گویا بتایا کہ اس زمانہ میں صرف مسلمان ہی ایسے ہوںگے جن کا قول و فعل یکساں ہوگا۔اس لئے وہی جیتیں گے۔دوسرے لوگ مثالی طور پر شعراء کی طرح ہیں۔یعنی دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن عمل کم ہے اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے مقابل پر نہیں جیت سکتے۔سورۃ شعرآء کے مضامین کا خلاصہ اس سورۃ کے شروع میں بتایاگیاہے کہ اس سورۃ اوراس کی تابع سورتوں میں اللہ تعالی کی ا ن تین صفات کی تشریح کی گئی ہے۔(۱) لطیف (۲)سمیعاور(۳)مجید۔یعنی اللہ تعالیٰ کے مخفی سے مخفی رازوں کے واقف ہونے ،دعائوں کے سننے اوراس کے مجید ہونے پر یعنی ان قوانین پر جن سے اس کی اعلیٰ شان ظاہر ہوتی ہے ظلم اورجبرثابت نہیں ہوتا اِس سورۃ میں روشنی ڈالی گئی ہے اوراس کے دلائل دئیے گئے ہیں۔(آیت ۱و۲) یہ کتاب اپنے دعاوی کے دلائل خود دیتی ہے۔کسی اَورکی مدد اوروکالت کی محتاج نہیں ہے(آیت ۳) پچھلی سورتو ںمیں جوکفارکی تباہی کی خبردی گئی تھی اورکہاگیاتھا کہ خداان پر رحم نہیں کرے گا۔اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکفار کی خیر خواہی کی وجہ سے سخت تکلیف پہنچی ہے مگریہ غم بیکار ہے۔کیونکہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ جبراً ہی مومن بناسکتا ہے اوراس کاکوئی فائدہ نہیں ہے(آیت ۴ و۵) ذاتی طور پر یہ لوگ حقا ئق کے ماننے سے دور ہوچکے ہیں اورہرسچائی پر ہنسی اُڑاتے ہیں۔(آیت ۶و۷) دنیامیں اللہ تعالیٰ نے ہرضرورت کے سامان پیدا کئے ہیں اورقسم قسم کے جوڑے بنا ئے ہیں پھر کیو ں خدائی سلسلہ میں بھی جوڑے نہ ہوں۔یعنی مثیل موسیٰ ؑ اورمثیلِ عیسیٰ ؑ پیدانہ ہوں۔اگرایسا ہوتو قابل اعتراض امرنہیں بلکہ خداتعالی کی طاقت اور اُس کی رحمت ہی کا ثبوت ملتا ہے(آیت ۸تا ۱۰) کیا یہ لوگ موسیٰ ؑکو نہیں دیکھتے کہ خدا نے اُسے فرعون کی طرف بھیجا۔اور اُس نے جانے سے بھی پہلے اپنے مُلکیوں کی سنگدلی سے خوف کیااورچاہاکہ عذر سن کر اُسے معا ف کیاجا ئے اورہارون کو مقرر کردیاجائے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اُس کا عذر نہ سنا کیونکہ وہی سب سے بہتر وجود اس کام کے لئے تھا ہاں ہارون کو اس کے ساتھ ملادیا۔اورفرمایا کہ جا کر فرعون کو ہماراپیغام سنادو۔ہم تمہارے ساتھ ہوں گے اور اس سے کہہ دوکہ وہ بنی اسرائیل کو ملک سے نکلنے دے۔(آیت ۱۱تا۱۸) فرعون نے اس پر سابق احسان جتائے اوراس کی زند گی پر کچھ اعتراضات کئے۔اور اُسے احسان فراموش قرار دیا۔موسیٰ ؑ نے ا ِس کے جوا ب دیئے اورکہا کہ ا گر مَیں ایسا ہو تاتو خدا مجھے اپنی رسالت کے لئے کیوں چن