تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 20
’’ اے وید ک دھرمی لوگو! تم چیتے جیسے بن کر اپنے مخالفین کو پھاڑ دو اور پھر ان کے کھانے تک کی چیزیں زبردستی اٹھا لو۔‘‘ ( اتھروید کانڈ ۴ سوکت ۲۲ منتر ۷) اسی طرح وید میں چاند ، سورج ،آگ ،پانی اور اندؔ ر سے یہاں تک کہ گھاس ؔ سے بھی یہ دُعائیں کی گئی ہیں کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے۔چنانچہ لکھا ہے ’’ اے آگ تو ہمارے مخالفوں کو جلا کر راکھ کر دے۔‘‘ (یجر وید ادھیائے ۱۳ منتر ۱۲) ’’ اے اندر ! تو ہمارے مخالفوں کو چیر پھاڑ ڈال اور جو ہم سے نفرت رکھتے ہیں انہیں تتر بتر کردے۔‘‘ ( سام وید پارٹ دوم کانڈ ۹ سوکت ۲ منتر ۹) ’’ اے مخالو ! تم سر کٹے ہوئے سانپوں کی طرح بے سر اور اندھے ہو جائو۔اس کے بعد پھر اندر دیوتا تمہارے چیدہ چیدہ لوگوں کو تباہ کر دے۔‘‘ ( سام وید پارٹ دوم کانڈ ۹ سوکت ۳منتر ۹) ’’ اے دبھ گھاس ! تُو ہمارے مخالفوں کو جلا دے اور تباہ کر اور جس طرح تو پیدا ہوتے وقت زمین کو چیر کر باہر نکل آتا ہے ویسے ہی تو ہمارے مخالفوں کے سروں کو چیرتا ہوا اوپر کو نکل کر ان کو تباہ کرکے زمین پر گرا دے۔‘‘ ( اتھروید کا نڈ ۱۹ سوکت ۲۸ منتر ۴) پھر ہندو دھرم میں یہ بھی تعلیم موجود ہے کہ غیر وید ک دھرمی لوگوں کے ساتھ بات چیت بھی نہ کرو ( گوتم دھرم سوترا دھیائے ۵) اور اگر کوئی ویدوں پر اعتراض کرے تو اُسے ملک سے باہر نکال دو۔یعنی اسے حبس دوام کی سزا دو۔( ہندو دھرم شاستر ) اس تعلیم کے پڑھنے سے کسی انسان کے دل میں ویدک دھرم کے متعلق محبت کے جذبات پیدا نہیں ہو سکتے۔اور نہ کوئی انسان ایسے مذہب کو اپنی نجات کا ضامن قرار دے سکتا ہے۔یہی حال کنفیوشس ازم اور زرتشتی مذہب کا ہے۔انہوں نے بھی کبھی ساری دنیا کو اپنا مخاطب نہیں سمجھا اور نہ ساری دنیا کو تبلیغ کرنے کی کوشش کی۔بلکہ جس طرح ہندو مذہب کے مطابق ہندوستان خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کا ملک تھا۔اسی طرح کنفیوشس ازم کے مطابق صرف چین آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا۔اور زرتشتیوں کے نزدیک صرف ایران آسمانی بادشاہت کا مظہر تھا۔غرض تمام مذاہب خدا تعالیٰ کو صرف اپنی اپنی قوم کا خدا قرار دے رہے تھے اور وہ خدا جس کی ربوبیت کے فیضان سے ساری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے اس کی ربوبیت عالمین سے وہ ایک رنگ میں انکار کر رہے تھے۔پس ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ کا وجود اپنے حقیقی حسن کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا اور خدا تعالیٰ کو رب العالمین کی شکل میں ظاہر کیا جاتا اور