تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 229
ہے بلکہ وہ اس نقطۂ نگاہ سے اُس کی آواز پر کان دھرتے ہیں کہ یہ ہمارے خدا کا ایلچی ہے اور اگر ہم نے اس کی آواز پر کان نہ دھرا تو ہماری دنیا بھی تباہ ہوگی اور ہماری عاقبت بھی برباد ہو گی۔گویا دنیا کے بادشاہ ہونے کے باوجود خدا تعالیٰ کے پا ک بندے اُس کے در کے بھکاری اور اُس کی آواز پر لبیک کہنے والے ہوتے ہیں اور کِبر اور رعونت کا کوئی شائبہ تک اُن کے دلوں میں نہیں پایا جاتا۔وَ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيّٰتِنَا اور وہ لوگ بھی (رحمٰن کے بندے ہیں) جو یہ کہتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو ہماری بیویوں کی قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا۰۰۷۵اُولٰٓىِٕكَ يُجْزَوْنَ طر ف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ يُلَقَّوْنَ فِيْهَا تَحِيَّةً وَّ سَلٰمًاۙ۰۰۷۶ اُن کے نیکی پر قائم رہنے کی وجہ سے( بہشت میں) بالا خانے دئیے جائیں گے اور ان کو اُس میں دُعائیں دی جائیں خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۰۰۷۷ گی اور سلامتی کے پیغام پہنچائے جائیں گے وہ اُن میں رہتے چلے جائیں گے۔وہ( یعنی جنت) عارضی قرار گاہ کے طور پر بھی بڑی اچھی ہے اور مستقل قرار گاہ کے طور پر بھی (بڑی اچھی ہے )۔حلّ لُغَات۔اَلْاِمَامُ۔الْاِمَامُ مَنْ یُؤتَمُّ بِہٖ ای یُقْتَدٰی بِہٖ۔یعنی امام اس شخص کو کہتے ہیں جس کی پیروی کی جائے ( اقرب) اَلْغُرْفَۃُ۔الغُرْفَۃُ اَلْعِلِّیَّۃُ۔غرفہ کے معنے عمارت کے اوپر کے حصہ یعنی بالا خانہ کے ہوتے ہیں ( اقرب ) نیز اس کے معنے ہیں اَلسَّمَآئُ السَّابِعَۃُ۔ساتواں آسمان ( اقرب) صَبَرُوْ ا۔صَبَرُوْاصَبْرٌ کے معنے ہیں تَرْکُ الشَّکْوٰی مِنْ أَلَمِ الْبَلْوَی لِغَیْرِ اللہِ لَا اِلَی اللہِ۔یعنی مصیبت کا شکوی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس نہ کرنا۔فَاِذَا دَعَا اللّٰہَ الْعَبْدُفِی کَشَفِ الضُّرِّعَنْہُ لَا یُقْدَحُ فِیْ صَبْرِہٖ۔اگر بندہ اپنی رفع مصیبت کے لئے خدا تعالیٰ کے پاس فریاد کرے تو یہ امر اس کے صبر کے منافی نہیں سمجھا جا سکتا۔