تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 228
کھلے ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی آیات پر تدبر کر کے یہ لوگ ہدایت پا سکتے تھے۔اور اگر ان کی آنکھیں کھلی ہوتیں تو یہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور نشانات دیکھ کر اپنی شرارتوں سے توبہ کر سکتے تھے۔مگر ان لوگوں نے ہدایت کے ان دونوں راستوں کو بند کر رکھا ہے۔اس لئے مسلمانوں میں شامل ہونے کے باوجود ان لوگوں پر خدا تعالیٰ کی لعنت بر س رہی ہے بڑے سے بڑا نشان بھی ان کے سامنے ظاہر ہو تو وہ اس طرح پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں کہ گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی اور اپنی منافقت میں اَور بھی بڑھ جاتے ہیں۔مگر مومنوں کی یہ کیفیت نہیں ہوتی۔اُن کی آنکھیں خدا تعالیٰ کے حضور اُس کے نشانات دیکھ کر جھک جاتی ہیں اور ان کے کان خدا تعالیٰ کی باتیں سُننےکے لئے ہمہ تن تیار رہتے ہیں۔اسلام کی طرف سے جب بھی کوئی آواز اٹھتی ہے وہ اُسے بہر ے کانوں کے ساتھ نہیں سُنتے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی بیتابی سے خدائی ہدایت کے منتظر تھے۔اور جب ان کی آنکھیں کسی نشان کو دیکھتی ہیں تو وہ اس سے مونہہ نہیں پھیرتے بلکہ اس نشان کو اپنے دل میں جگہ دیتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے انہیں اپنے نشانات کے ذریعہ اپنی ہستی کا ثبوت دیا۔غرض سچا مومن خدا تعالیٰ کی آیات کے ظہور پر اَور بھی خدا تعالیٰ کے قریب ہو جاتا ہے۔مگر کافر اور منافق اپنے کفر اور نفاق میں ترقی کر جاتا اور اس کا پچھلا حال پہلے سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس جگہ آیات الٰہیہ سے صرف قرآنی آیات یا اللہ تعالیٰ کے نشانات ہی مراد نہیں بلکہ وہ تمام ربّانی علماء اور مصلحینِ امت جن کا کام خدا تعالیٰ کی بھولی بھٹکی مخلوق کو راہِ راست پر لانا اور انہیں صراطِ مستقیم پر قائم کرنا ہے اُن کا وجود بھی آیات الٰہیہ میں ہی شامل ہے۔جیسے قرآن کریم نے حضرت مسیح ناصری ؑ اور اُن کی والدہ حضرت مریم صدیقہ ؑ کے متعلق فرمایا۔وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّہٗ اٰیَۃً ( مومنون :۵۱) کہ ہم نے مسیح ناصری ؑ اور اُن کی والدہ کو دنیاکے لئے ایک آیت بنا دیا تھا اور یَخِرُّوْا کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بتا یا جا چکا ہے صرف جھکنے اور گرنے کے نہیں بلکہ حملہ کرنے کے بھی ہیں۔پس وَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ يَخِرُّوْا عَلَيْهَا صُمًّا وَّ عُمْيَانًا میں اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ غلبہ اور اقتدار کی حالت میں بھی عباد الرحمٰن کو جب اللہ تعالیٰ کے کسی مامور یامصلح یا مجدد کے ذریعہ اُن کی خامیوں کی طرف توجہ دلائی جائے تو وہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اندھے اور بہرے ہو کر اُن پر حملہ نہیں کر دیتے جیسے بد قسمتی سے بعض مسلمان باد شاہوں نے اولیاء اُمت سے ناروا سلوک کیا اور اُن پر بڑے بڑے مظالم توڑے بلکہ وہ فوراً اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور اپنی خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ فوج اور طاقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔اوریہ ہمیں نصیحت کرنے والا ایک معمولی فرد