تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 215

ملتی ہے۔جو شخص سچ بولنے والا ہو وہ ایسے کام ہی نہیں کرتا جن کے نتیجہ میں اُسے پھانسی ملے لیکن جھوٹ بولنے والا سمجھتا ہے کہ اگر میں نے جھوٹ بولا تو شاید بچ جائوں اس لئے وہ دلیری سے ایسے افعال میں مبتلا ہو جاتا ہے جن کا نتیجہ بعض دفعہ نہایت خطرناک ہوتا ہے اور یا پھر سچ بولنے والا اُس وقت پھانسی چڑھتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ اب میرا مذہبی فرض ہے کہ میں اپنی جان پیش کردوں۔پھر وہ دلیری کے ساتھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بے شک پھانسی دے دو۔غرض سچائی ایک بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہے۔انبیاء نے اس پر خاص زور دیا ہے اور انسانی اخلاق کا یہ ایک بنیادی حصہ ہے۔مگر آج کل سیاسی اور قومی مفاد کی خاطر جھوٹ کو جھوٹ سمجھا ہی نہیں جاتا۔بلکہ اُسے ایک نہایت ضروری چیز قرار دیا جاتا ہے۔حالانکہ جھوٹ فطرت کے خلاف ہے جھوٹ اس چیز کا نام ہے کہ کان نے جو کچھ سنا ہو اس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ میں نے نہیں سنا۔آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو اُس کے متعلق کہہ دیا جائے کہ میں نے نہیں دیکھا۔ہاتھ نے ایک چیز اٹھائی ہو لیکن انسان یہ کہہ دے کہ میرے ہاتھ نے فلاں چیز نہیں اٹھائی۔ایک شخص کے پائوں ایک طر ف چلیں لیکن وہ کہہ دے کہ میرے پائوں اس طر ف نہیں چلے۔گویا انسان غیر کی نہیں اپنی تردید کرتا ہے۔اور اس سے زیادہ فطرت کے خلاف اور کیا چیز ہو گی۔شبہ اس چیز میں ہو سکتا ہے جس میں قیاس کا دخل ہو۔حواسِ خمسہ کے افعال پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔اور حواسِ خمسہ کے افعال کے خلاف بات کہنے کو جھوٹ کہتے ہیں۔جو شخص حواسِ خمسہ کی تردید کرتا ہے وہ گویا اپنی زبان ، ہاتھ ، پائوں ، ناک اور کان کی تردید کرتا ہے اور پھر وہ اس میں سب سے زیادہ لذت محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خلاف آپ گواہی دے رہا ہے۔ایک انسان کے ہاتھ ایک چیز کو پکڑ تے ہیں اور وہ کہتا ہے میں نے فلاں چیز نہیں پکڑی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو کہتا ہے تم نے فلاں چیز نہیں پکڑی۔ایک چیز اس کی زبان چکھتی ہے لیکن وہ کہتا ہے میں نے فلا ں چیز نہیں چکھی۔تواس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں چیز نہیں چکھی یا اس کے کان ایک بات سنتے ہیں اور وہ اس کا انکار کردیتا ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے کانوں سے کہتا ہے کہ تم نے فلاں بات نہیں سُنی۔اب یہ کتنی مضحکہ خیز اور عجیب بات ہے مگر لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے اور موقعہ آنے پر جھوٹ بول دیتے ہیں۔اور اگر ایک جھوٹ بولے تو دوسرا اس کی تائید کرنے لگ جاتا ہے۔قاضی کے سامنے معاملہ جائےگا تو بیٹا کہےگا کہ میرا باپ تو وہاں تھا ہی نہیں وہ تو فلاں جگہ تھا۔حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہوتا ہے۔اسی طرح عورتوں میں بھی جھوٹ کا مرض زیادہ پایا جاتا ہے بلکہ اُن میں جھوٹ کی عادت مردوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیعت لیتے وقت عورتوں