تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 207

خدا تعالیٰ اُن کا مواخذہ نہیں کرتا۔شبلی ؒ ایک بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں وہ خلافت ِ عباسیہ کے دَور میں کسی علاقہ کے گورنر تھے۔ایک دفعہ وہ کسی کام کے سلسلہ میں بادشاہ سے مشورہ کرنے کے لئے بغداد آئے۔انہی دنوں ایک بہت بڑا جرنیل ایران کی مہم میں کامیابی حاصل کرکے واپس آیا اور بادشاہ نے اُس کے اعزاز میں دربار خاص منعقد کیا اور فیصلہ کیا کہ بھرے دربار میں اُسے خلعتِ فاخرہ دی جائے اور اُس کی عزت افزائی کی جائے۔اتفاق سے اس روز اُسے نزلہ کی شکایت تھی جب اُسے خلعت دیا گیا اور دربار میں چاروں طرف سے اُس پر پھو ل برسا ئے جانے لگے تو اُسے چھینک آگئی اور ناک سے پانی بہ پڑا۔اُس نے جلدی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا مگر رومال موجود نہیں تھا۔یہ دیکھ کر اُس نے گھبراہٹ میں اُسی خلعت سے اپنی ناک پونچھ لی۔بادشاہ نے اُسے دیکھ لیااور اُس نے سخت غضبناک ہو کر حکم دیا کہ اس شخص نے ہمارے خلعت کی ناقدری کی ہے اُس کا خلعت اتار لو اور اسے دربار سے نکال دو۔چنانچہ اُس کا خلعت اُتار لیا گیا اور اُسے ذلت کے ساتھ دربار سے نکال دیا گیا۔شبلی ؒ جو یہ تمام نظارہ دیکھ رہے تھے یکدم اُن کی چیخ نکلی اور انہوں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔بادشاہ نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ رونے کا کون سا مقام ہے ناراض تو میں جرنیل پر ہوا ہوں تم خواہ نخواہ کیوں روتے ہو۔وہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے حضور میرا استعفیٰ منظور فرمائیں ،بادشاہ نے پھر کہا یہ استعفیٰ کا کون ساموقعہ ہے۔انہوں نے کہا بادشاہ سلامت یہ شخص آج سے دو سال پہلے ایک خطرناک مہم پر روانہ کیا گیا تھا۔یہ رات اور دن دشمن کے مقابلہ میں رہا۔ہر روز موت اس کے سر پر منڈلا تی تھی اور ہر رات اس کی بیوی بیوگی کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے سوتی تھی۔یہ گھر سے بے گھر اور وطن سے بے وطن رہا۔جنگلوں میں دھکے کھاتا رہا۔مصائب اور آلام بر داشت کرتا رہا اور آخر فتح یاب ہو کر واپس آیا۔آپ نے اس کی آمد کی خوشی میں یہ دربار منعقد کیا اور اُسے چند گز کپڑا خلعت کے طورپر عطا فرمایا۔مگر صرف اس لئے کہ اُس نے اُس خلعت سے اپنی ناک پونچھ لی آپ اتنے غضبناک ہوئے کہ آپ نے اُسے دربار سے باہر نکال دیا۔اور اس کا خلعت چھین لیا۔میں اس نظارہ کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ جب چند گز کپڑے کی آپ ہتک برداشت نہیں کر سکے تو میرا خدا جس نے مجھے کروڑوں کروڑ نعمتیں عطا فرمائی ہوئی ہیں اور جس کی نعمتوں کی میں روزانہ ہتک کرتا ہوں وہ قیامت کے دن مجھ سے کیا سلوک کرےگا۔میں اب اس ملازمت سے باز آیا۔میر ااستعفیٰ قبول کیجئیے۔میں اب اپنی بقیہ عمر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہی بسر کروںگا۔چنانچہ وہ استعفیٰ دے کر چلے گئے۔اور پھر اپنے گناہوں کی معافی کے لئے مختلف بزرگوں کے پاس گئے مگر وہ اتنے ظالم مشہور تھے کہ کسی نے اُن کی بیعت لینے کی جرأت نہ کی۔آخر وہ حضرت جنید ؒ کے پاس پہنچے۔انہوں نے فرمایا۔تمہاری توبہ قبول ہو سکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ پہلے تم اُس شہر میں واپس جائو