تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 190
عبد اللہ بن عمر ؓ تہجد پڑھنے میں سُستی کر تے ہوںگے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذریعہ سے انہیں توجہ دلائی کہ وہ اپنی اس سُستی کو دُور کریں۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے اُسی دن سے تہجد کی نماز میں باقاعدگی اختیار کر لی۔ایک دفعہ رات کے وقت آپ اپنے داماد حضرت علی ؓ اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کے گھر گئے اور باتوں باتوں میں دریافت فرمایا کہ کیا تم تہجد بھی پڑھا کرتے ہو۔حضرت علی ؓ نے کہا یا رسول اللہ ! پڑھنے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت کسی وقت آنکھ نہیں کھلتی تو نماز رہ جاتی ہے۔آپ اُسی وقت اُٹھ کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے اور بار بار فرماتے وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرُشَیْءٍ جَدَلًا ( بخاری کتاب التہجد باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی قیام اللیل والنوافل من غیر ایجاب) یعنی انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے مختلف قسم کی تاویلیں کر کرکے اپنے قصور پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔آپ کا مطلب یہ تھا کہ بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے انہوں نے یہ کیوں کہا کہ جب خدا کا منشاء ہوتا ہے کہ ہم نہ جاگیں تو ہم سوئے رہتے ہیں اور اس طرح اپنی غلطی کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں منسوب کیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر رات کو میاں کی آنکھ کھلے اور وہ تہجد کے لئے اُٹھے تو اپنی بیوی کو بھی تہجد کے لئے جگائے۔اور اگر وہ نہ اٹھے تو اُس کے مُنہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے اور اگر بیوی کی آنکھ کھل جائے اور اس کا میاں جگانے کے باوجود نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کا ہلکا سا چھینٹا دے۔(سنن ابی داؤد ابواب الوتر باب الحث علی قیام اللیل)۔آپؐ تہجد کی اہمیت پر اس قدر زور دیا کرتے تھے کہ آپ ؐ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصّہ میں اپنے بندوں کے قریب آجاتا ہے اور اُن کی دعائوں کو دن کی نسبت بہت زیادہ قبول فرماتا ہے۔(بخاری کتاب التہجد باب الدعافی الصلاة من آخر اللیل)۔آپؐ نے ایک دفعہ فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا یا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اُس کے کان ہو جاتا ہوں جن سے وہ سُنتا ہے اُس کی آنکھیں ہو جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔اُس کے ہاتھ ہو جاتاہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اُس کے پائوں ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے(صحیح بخاری کتاب الرقاق باب التواضع)۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رات کا اُٹھنا انسان کو اللہ تعالیٰ کے کس قدر قریب کر دیتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ اس زمانہ میں تہجد پڑھنے کی عادت بہت کم ہو گئی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمٰن کی یہ ایک خاص خوبی بیان کی ہے کہ وہ اپنی راتیں خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ و قیام میں گذار دیتے ہیں۔مگر چونکہ یہ آیات مسلمانوں کے دَور حکومت کی امتیازی خصوصیات کی بھی حامل ہیں اس لئے يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا میں یہ بھی بتا یا گیا ہے کہ مسلمانوں کو جب دنیا پر غلبہ حاصل ہو گا تو وہ عیش و عشرت میں منہمک نہیں ہوںگے بلکہ اُن کی راتیں خدا تعالیٰ