تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 189
بیٹھتا ہے(بخاری کتاب الوکالۃ باب الوکالۃ فی قضاء الدّیُون)۔اسی طرح ایک اَور شخص نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہہ دیا کہ آپ نے جو اموال کی تقسیم کی ہے اُس میں انصاف سے کام نہیں لیا۔حضرت عمر ؓ تلوارلے کر کھڑے ہو گئے تاکہ اس کا سراُڑا دیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانے دو اور اسے کچھ نہ کہو(مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ)۔غرض وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مومنوں کو جب غلبہ حاصل ہو گا تو ایسی حالت میں بھی وہ کسی کے خطابِ جہالت پر بُرا نہیں منائیں گے بلکہ اُن کی سلامتی اورتحفظ حقوق کو مدنظر رکھیں گے۔اور درحقیقت غلبہ کے وقت ہی انسان کے اعلیٰ اخلاق کا پتہ چلتا ہے ورنہ کمزوری کی حالت میں کسی کا مار کھا لینا تو ستِر بی بی از بے چادری والی بات ہوتی ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مار نہ کھائے تو کیا کرے اُس کے اندر مقابلہ کی طاقت تو ہے ہی نہیں۔لیکن جب کوئی شخص طاقت رکھتے ہوئے عفو سے کام لیتا ہے اور سزا دینے کی طاقت رکھتے ہوئے کچھ نہیں کہتا تو اُس وقت ظاہر ہو جاتا ہے کہ فی الواقعہ وہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا مالک ہے۔پھر فرماتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا۔وہ لوگ اپنی راتیں خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ و قیام کرتے ہوئے گذار دیتے ہیں۔اس میں جہاں عباد الرحمٰن کی یہ خصوصیت بتا ئی گئی ہے کہ وہ مصائب اور مشکلات کے اوقات میں جو رات کی تاریکیوں سے مشابہت رکھتے ہیں دُعائوں اور گریہ و زاری سے کام لیتے اور خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہتے ہیں۔وہاں اس میں تہجد کی ادائیگی بھی عباد الرحمٰن کا شعارقرار دیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ اُن کی راتیں خراٹے بھرتے ہوئے نہیں گذرتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اُس کی محبت اور عبادت میں گذرتی ہیں۔وہ جسمانی تاریکی کو دیکھ کر ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن پر روحانی تاریکی بھی نہ آجائے اور وہ دعائوں اور استغفار اور انابت سے خدا تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے نماز تہجد کی اہمیت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ھِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّ اَقْوَمُ قِیْلًا (المزمل :۷) یعنی رات کا اٹھنا انسانی نفس کو مسلنے میں سب سے زیادہ کا میاب نسخہ ہے اور رات کو خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گِرے رہنے والوں کی روحانیت ایسی کامل ہوجاتی ہے کہ وہ ہمیشہ سچ کے عادی ہو جاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز تہجد کا اس قدر خیال رہتا تھا کہ آپ بعض دفعہ رات کو اُٹھ کر چکر لگاتے اور دیکھتے کہ کون کون تہجد پڑھ رہا ہے۔ایک دفعہ مجلس میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا ذکر آگیا کہ وہ بڑی خوبیوں کے مالک ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں بڑا اچھا ہے بشرطیکہ تہجد بھی پڑھے (صحیح بخاری کتاب التہجد باب فضل من تعارّ من اللیل فصلّٰی)۔معلوم ہوتا ہے اُن دنوں حضرت