تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 162

تم بھی پہلے اسلام کے دشمن تھے مگر اب تم اسلام کے سپاہی ہو۔اس قسم کے واضح احکام کی موجودگی میں اسلام پر یہ الزام لگانا کہ وہ غیر مسلموں سے روادارانہ سلوک کا حامی نہیں اور یہ کہ وہ تلوار کے زور سے دوسروں کو اپنے مذہب میں داخل کرنا جائز سمجھتا ہے دشمنانِ اسلام کی انتہائی جسارت اور اُن کی نا انصافی کا بد ترین مظاہر ہ ہے۔وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِيْ لَا يَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ اور تو اُس پر توکل کر جو زندہ ہے (اور سب کو زندہ رکھتا ہے) کبھی نہیں مرتا۔اور اُس کی تعریف کے ساتھ ساتھ اُس کی تسبیح كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرَا۰۰۵۹ا۟لَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بھی کر اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خوب واقف ہے۔وہ( خدا) جس نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اُن کے وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى درمیان ہے ان سب کو چھ اوقات میں پیدا کیا ہے پھر وہ مضبوطی سے عرش پر قائم ہو گیا وہ رحمٰن ہے پس جب بھی الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْـَٔلْ بِهٖ خَبِيْرًا۰۰۶۰ (اے انسان) تو اس کے متعلق کوئی سوال کرے تو خبیر سے سوال کر جو بہت با خبر ہے (اور ٹھیک ٹھیک جواب دے سکتا ہے )۔تفسیر۔فرماتا ہے۔تمہیں چاہیے کہ تم صرف اُس خدا پر توکل کرو جو زندہ ہے اور جس پر کبھی موت وارد نہیں ہو سکتی۔اور اُس کی تعریف کے ساتھ ساتھ اُسکی تسبیح کرو۔اور اس امر کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارا خدا اپنے بندوں کی کمزوریوں کو خوب جانتا ہے۔افسوس ہے کہ ہمارے ملک میں توکل کے لفظ کا بڑا غلط استعمال ہو رہا ہے۔توکل کے معنے ہوتے ہیں انسان اپنے معاملہ کو کلی طور پر خدا تعالیٰ کے سپر د کردے اور خدا تعالیٰ کے سپرد کرنے کے یہ معنے ہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق چلے جس کی طرف سَبِّحْ بِحَمْدِہٖ میں اشارہ کیا گیا ہے۔اور لوگوں کو سمجھایا گیا ہے کہ توکل کے یہ معنے نہیں کہ انسان اُن ذرائع کو استعمال نہ کرے جو خدا تعالیٰ نے کسی کام کی کامیابی کے لئے مقرر کئے ہوئے ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کرےگا تو وہ قانونِ قدرت کو لغو قرار دینے والا ہوگا۔اُس کی تعریف کرنے والا نہیں