تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 12

ہوں تب پتہ لگتا ہے کہ فلاں شخص مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا ہے۔فلاں شخص ہندوؤں کے گھر میںپیدا ہوا ہے اور فلاں شخص بدھوں یا پارسیوں کے گھر میں پیدا ہوا ہے۔پس صرف نام کوئی حقیقت نہیں رکھتا اصل خوبی جو کسی چیز کی اہمیت کو بڑھانے والی ہوتی ہے وہ اس کی صفات ہوتی ہیں۔ورنہ مٹی کا بنا ہوا کیلا بھی نام کے لحاظ سے کیلا ہی ہوتا ہے۔مٹی کا بنا ہوا سیب بھی نام کے لحاظ سے سیب ہی ہوتا ہے۔مٹی کا بنا ہوا آم بھی نام کے لحاظ سے آم ہی ہوتا ہے ان چیزوں کو صرف پھلوں کا نام دے دینے کی وجہ سے ان کے اندر پھلوں کی خاصیت پیدا نہیں ہو جاتی اور نہ ان چیزوں سے اس طرح فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے جس طرح حقیقی آم یا سیب یا کیلے سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے۔غرض دنیا کو وہی چیز فائدہ پہنچا سکتی ہے جو اپنے نام کے مطابق اپنے اندر صفات بھی رکھتی ہو اگر اس کانام تریاق ہو تو وہ اپنے اندر تریاقی خاصیت رکھتی ہو اور اگر اس کانام شفا ہو تو وہ اپنے اندر شفائی اثرات رکھتی ہو۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہتَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ کہ بڑی برکتوں والا ہے وہ خدا جس نے حق اور باطل میں تمیز کرنے والا کلام اپنے بندے پر نازل کیا ہے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اپنے پاک اور بے عیب ہونے کا دعویٰ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ ہمارا یہ دعویٰ صرف منہ کا دعویٰ نہیں بلکہ اس کے اند ر کا مل صداقت پائی جاتی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ اس خدا نے فرقان نازل کیا ہے یعنی ایسا کلام نازل کیا ہے جس کا ایک ایک لفظ حق اور باطل میں تمیز کر کے دکھلا دیتا ہے اور بتا دیتا ہے کہ فلاں چیز مفید ہے اسے قبول کرو اور فلاں چیز مضر ہے اس سے بچو۔عیسائیت کی تعلیم کو ہی دیکھ لو۔وہ اپنی ظاہر ی شکل میں کتنی خوبصورت نظر آتی ہے۔مسیح ؑ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص تیرے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تُو اپنا دوسرا گال بھی اُس کی طرف پھیر دے ( متی باب ۵ آیت ۳۹) جب عیسائی مشنری کسی چوک میں کھڑے ہو کر انجیل کی یہ تعلیم بیان کرتا ہے تو کئی کمزور مسلمان بھی یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ سبحان اللہ ! کیسی اچھی تعلیم ہے لیکن جب ان الفاظ پرعمل کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ تعلیم بالکل بے کار ثابت ہوتی ہے۔بلکہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ خود مسیح بھی اپنی زندگی میں اس تعلیم پر عمل نہ کر سکا۔چنانچہ وہی مسیح ؑ جس نے یہ کہا تھا کہ اگر کوئی شخص تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو۔اُسی نے دوسرے موقعہ پر کہا کہ میں صلح کرانے نہیں آیا۔میں تلوار چلانے آیا ہوں۔( متی باب ۱۰ آیت ۳۴) بلکہ اُس نے اپنے حواریوں سے کہا کہ اگر تمہارے پاس تلواریں خریدنےکے لئے روپے نہیں تو اپنے کپڑ ے بیچ کربھی تلواریں خرید لو ( لوقاباب ۲۲ آیت ۳۶) غرض عیسائی دنیا نے اس تعلیم پر کبھی عمل نہیں کیا۔لیکن قرآن کریم دعویٰ کرتا ہے کہ وہ سچ اور جھوٹ میں ایسا