تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 148

میں اس شخص کی بیٹی ہوں جو مصیبتوں کے وقت لوگوں کے کام آیا کرتا تھا۔یعنی حاتم کی۔وہ مسلمان نہ تھا لیکن چونکہ لوگوں سے اچھا سلوک کر تا تھا اس لئے اس کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی بیٹی کو آزاد کر دیا۔اس کا بھائی گرفتاری کے خوف سے بھاگا پھرتا تھا۔آ پ ؐنے اُسی وقت اُسے روپیہ اور سواری دے کر کہا کہ جا کر اپنے بھائی کو بھی لے آئو چنانچہ وہ گئی اور اُسے لے آئی۔اُس پر اس سلوک کا ایسا اثر ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا۔اس طرح آپؐ نے اس کی سفارش پر اُس کی ساری قوم کی سزا کو بھی معاف کر دیا ( السیرۃ الحلبیۃ باب یذکر فیہ ما یتعلق بالوفود التی وفدت علیہ صلی اللہ علیہ وسلم وفود عدی بن الحاتم الطائی) اس سے ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر نہ صرف غیرمذاہب کے لوگوں کی خوبیوں کا اعتراف کیا بلکہ اُن سے تعلق رکھنے والوں سے بھی حسنِ سلوک کیا۔اور انہیں اپنے احسانات سے نوازا۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ میں جب طے قبیلہ بعض لوگوں کے اکسانے سے بغاوت میں شامل ہوگیا تو حاتم طائی کے بیٹے نے جو خود اسلام سے بھاگا پھر رہا تھا آکر اپنی قوم کو سمجھایا اور دوبارہ اُن کی بیعت کرائی۔(طبری سنة ۱۱ ذکر بقیة الخبر عن غطفان ) (۲) دوسری مثال نصاریٰ نجران کا واقعہ ہے۔نجران کے نصاریٰ کا ایک وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس الوہیت ِ مسیح ؑ کی تائید میں بحث کرنےکے لئے آیا مگر باوجود اس کے کہ وہ لوگ شرک کی تائیدکے لئے آئے تھے جب اُن کی عبادت کا وقت آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد نبوی ؐ میں ہی اپنے طریق پر عبادت کرنے کی اجازت دے دی اور انہوں نے سب کے سامنے مشرق کی طرف منہ کر کے نماز ادا کی (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام امر السید والعاقب و ذکر المباھلة) اس سلوک کو دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی جانیں لینےکے لئے اور اُن پر ظلم کرنےکے لئے آئے تھے ،جو جانیں لینےکے لئے آیا کرتا ہے کیا وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی مسجد میں غیر مذاہب والوں کو عبادت کی اجازت دے سکتا ہے اور مسجد بھی وہ جس کے متعلق آپؐ نے اٰخر المساجد فرمایا ہے۔اور جس میں نماز پڑھنا دوسری مساجد کی نسبت بہت زیادہ قابل ثواب قرار دیا ہے (مسلم کتاب الحج باب فضل الصلاة بمسجدی مکة والمدینة)۔اس مسجد میں خدا تعالیٰ کے نبی کی موجودگی میں اور اُس نبی ؐ کی موجودگی میں جو خدا تعالیٰ کی توحید قائم کرنےکے لئے آیا تھا۔نصاریٰ صلیبیں رکھ کر عبادت کرنا چاہتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کیا ہر ج ہے بیشک کر لو۔آج بڑے بڑے رواداری کا دعویٰ کرنے والوں کو بھی اتنی جرأت نہیں ہوتی کہ اپنی عبادت گاہوں میں غیر مذاہب کے لوگوں کو عبادت کرنے دیں صرف ہماری جماعت کی ایک مثال ہے جس نے یہ نمونہ قائم کیا اور مسجد لنڈن کی بنیاد رکھتے ہوئے ہی