تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 129

نہیں کیا گیا۔جس فوج کو مشق نہ کرائی جائے وہ وقت پر لڑ نہیں سکتی جس قوم کو ہر وقت جہاد میں نہ لگا یا جائے وہ خاص مواقع پر بھی جہاد نہیں کر سکتی۔پس اس معاملہ میں بھی فتح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہی حاصل ہوئی اور ثابت ہو گیا کہ جس نکتہ تک آپ کا دماغ پہنچا تھا دوسروں کا نہیں پہنچا۔دنیا نے آپ کا مقابلہ کیا اور شکست کھائی مگر آپ نے دنیا کے چیلنج کو قبول کیا اور فتح حاصل کی۔اس جگہ یہ ذکر کر دینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بانی سلسلہ ٔ احمدیہ نے جہاد کے متعلق اپنے جس عقیدہ کا اعلان فرمایا ہے اُس میں بانی سلسلہ احمدیہ منفرد نہیں بلکہ دیگر علماء ِ اسلام بھی اسی قسم کا مذہب رکھتے تھے۔چنانچہ امام راغب ؒ اصفحانی اپنی کتاب مفردات راغب میں لکھتے ہیں۔’’ اَلْجِھَادُ ثَلَاثَۃُ اَضْرُبٍ مُجَاھَدَ ۃُ الْعَدُوِّ الظَّاھِرِ وَمُجَاھَدَۃُ الشَّیْطَانِ وَمُجَاھَدَۃُ النَّفْسِ‘‘ ( مفردات ِ امام راغب ؒ زیر مادہ جھد ) یعنی جہاد تین قسم کا ہوتا ہے۔ایک وہ جہاد ہے جو اُس کھلے دشمن سے کیا جائے جو مسلمانوں سے لڑائی کرے اور ایک وہ جہاد ہے جو شیطان سے کیا جائے اور ایک وہ جہاد ہے جو اپنے نفس سے کیا جائے۔مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی امیر جماعت اہل حدیث کے متعلق روایت ہے کہ انہوں نے بھی ۱۸۵۷؁ء کے غدر کو جس میں مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف تلوار چلائی تھی شرعی جہاد نہیں سمجھا بلکہ اس کو بے ایمانی و عہد شکنی و فساد و عناد خیال کر کے اُس میں شمولیت اور اُس کی معاونت کو معصیت قرار دیا ( رسالہ اشاعۃ السنّہ ماہ اکتوبر ۱۸۸۳ء جلد ۶ نمبر ۱۰ صفحہ ۲۸۸)سر سید احمد خان صاحب بھی لکھتے ہیں ’’ مسلمانوں کا بہت زور وں سے آپس میں سازش اور مشورہ کرنا اس ارادے سے کہ ہم باہم متفق ہو کر غیر مذہب کے لوگوں پر جہاد کریں اور اُن کی حکومت سے آزاد ہو جائیں نہایت بے بنیاد بات ہے جب کہ مسلمان ہماری گورنمنٹ کے مستامن تھے کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے۔بیس تیس برس پیشتر ایک بہت بڑے نامی مولوی محمد اسماعیل صاحب نے ہندوستان میں جہاد کا وعظ کیا اور آدمیوں کو جہاد کی ترغیب دی۔اُس وقت انہوں نے صاف بیان کیا کہ ہندوستان کے رہنے والے جو سر کار انگریز ی کے امن میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے۔اس لئے ہزاروں آدمی جہاد ی ہر ایک ضلع ہندوستان میں جمع ہوئے اور سرکار کی عملداری میں کسی طرح فساد نہیں کیا اور غربی سرحد پنجاب پر جا کر لڑائی کی۔‘‘ ( اسبابِ بغاوت ہند از سر سید احمد خان تالیف و تدوین سلیم الدین قریشی صفحہ ۳۱،۳۲ ) علامہ رشید رضا صاحب اپنی تفسیر المنار جلد ۱۰ مطبوعہ قاہرہ مصر صفحہ ۳۰۷ پر لکھتے ہیں : ’’ یورپین لوگ اور مشرقی عیسائیوں میں سے اُن کے مقلداور شاگر د یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جہاد کے معنے یہ ہیں کہ مسلمان ہر اُس شخص