تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 128
کی عملی طاقتیں چونکہ مفلوج ہو گئی تھیں اُن کے لیڈروں نے اس مسئلہ میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت کی اور چونکہ وہ کام نہیں کرنا چاہتے تھے اور یہ اقرار بھی نہیں کر نا چاہتے تھے کہ وہ کام سے جی چراتے ہیں انہوں نے یہ عجیب چال چلی کہ لوگوں میں شور مچانا شروع کر دیا کہ بانی سلسلۂ احمدیہ جہاد کے منکر ہیں۔حالانکہ یہ سراسر بہتان اور جھوٹ تھا بانی سلسلہ ٔ احمدیہ جہاد کے منکر نہیں تھے بلکہ اُن کا یہ دعویٰ تھا کہ جہاد باقی ارکانِ اسلام کی طر ح ہر زمانہ میں ضروری ہے اور چونکہ تلوار کا جہاد ہر زمانہ میںنہیں ہو سکتا اور چونکہ جماعت کا سُست ہو جانا اُس کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی دو قسمیں مقرر کی ہیں۔جب تلوار سے اسلام پر حملہ ہو تو تلوار کا جہاد فرض ہوتا ہے اور جب لوہے کی تلوار کا حملہ ختم ہو تو قرآن کریم کی تلوار لے کر کافروں پر حملہ کرنا ہمارا فرض ہے۔غرض جہاد کسی وقت چھوڑا نہیں جا سکتا۔کبھی مسلمانوں کو تلوار کے ذریعہ جہاد کرنا پڑےگا اور کبھی قرآن کے ذریعہ۔یہ ایک عجیب اور پر لطف جنگ تھی کہ جو شخص جہا دکے لئے مسلمانوں کو بلا رہا تھا اور جہاد کو ہر زمانہ میں فرض قرار دے رہا تھا اُسے تو جہاد کا منکر کہا جاتا ہے اور جو لوگ نہ تلوار اُٹھاتے تھے اور نہ قرآن کریم کے ذریعہ جہاد کرتے تھے انہیں جہاد کا ماننے والا قرار دیا جاتا تھا۔مگر ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس جنگ سے سلسلہ احمدیہ کے راستہ میں روکیں تو پیدا کی جا سکتی تھیں مگر اسلام کو کیا فائدہ تھا۔اسلام حضرت زین العابدین ؒ کی طرح میدان کر بلا میں بے یارو مددگار پڑا تھا۔مسلمان جہاد کی تائید کا دعویٰ کرتے ہوئے اسلام کے لئے جہاد کرنے والوں کا مقابلہ کر رہے تھے اور دشمنانِ اسلام کے لئے انہوں نے میدان خالی چھوڑ رکھا تھا۔مگر آج ا س قدر لمبے عرصہ کے تجر بہ کے بعد سب دنیا دیکھ رہی ہے کہ عملی پروگرام جو بانی سلسلہ احمدیہ نے تجویز کیا تھا وہی درست تھا۔ستر سال تک شور مچا نے کے باوجود مسلمان آج تک تلوار کا جہاد نہیں کر سکے۔کفر کا فتویٰ لگانے والے مولویوں میں سے کسی ایک کو بھی آج تک تلوار پکڑنے کی توفیق نہیں ملی۔لیکن قرآن کریم کے ذریعہ جہاد کرنے والے احمدیوں کو خدا تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح عطا فرمائی ہے۔وہ لاکھوں آدمی ان مولویوں کی مخالفت کے باوجود غیر مذاہب والوں سے چھین کر لے آئے ہیں اور یورپ اور امریکہ اور افریقہ میں ہزار ہا آدمیوں کو جو پہلے ہمارے آقا اور مولیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے حلقہ بگوشانِ اسلام بنا چکے ہیں۔اور وہ جو ایک زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے شدید دشمن تھے آج آپؐ پر درود او ر سلام بھیج رہے ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تغیر جماعت احمدیہ کی تنظیم کا نتیجہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تنظیم ہم میں کیوں پیدا ہوئی اور کیوں دوسروں سے تنظیم کی توفیق چھین لی گئی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ قوتِ عملیہ پیدا کرنے کا صحیح نسخہ استعمال