تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 127

آپ نے انہیں ہدایت کی کہ جہاد اسلام کا ایک اہم جزو ہے جو کسی وقت بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔جس طرح نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ اسلام کے ایسے احکام ہیں جن پر عمل کرنا ہر زمانہ میں ضروری ہے اسی طرح جہاد بھی ایسے اعمال میں سے ہے جن پر ہر زمانہ میں عمل کرنا ضروری ہے۔پہلے علماء نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ نماز اور روزہ اور زکوٰۃ مقدم ہیں۔اس کے بعد حج ہے اور پھر جہاد ہے لیکن علامہ ابن رشد ؒ لکھتے ہیں کہ نماز اور روزہ اور زکوٰۃ کے بعد جہاد ہے اور پھر حج ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے علماء کی بات زیادہ درست ہے کیونکہ جو شخص نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ کا پابند نہیں اُس کے اندر جہاد کی روح ہی پیدا نہیں ہو سکتی۔اور جس کے اندر جہاد کی روح پیدا نہ ہو اُس نے جہاد کیا کرنا ہے۔پس حقیقت یہی ہے کہ ہر مومن کے لئے نماز اور روزہ اور حج اور زکوٰۃ نہایت اہم چیزیں ہیں اور جب تک وہ ان کو پورا نہ کرے اس کے اندر اسلام کی روح پیدا نہیں ہو سکتی۔اور اسلام کی روح پیدا ہونے کے بعد اُس کا فرض ہے کہ قرآن ہاتھ میں لے کر تمام غیر مسلم دنیا کے مقابلہ میں نکل کھڑا ہو۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے جہاد کے متعلق انفرادی طور پر مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے نہ کہ جماعتی طور پر۔اور ہر مسلمان پر جہاد فرض کیا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاد سے مراد جہاد بالقرآن ہے جہاد بالسیف نہیں کیونکہ جہاد بالسیف طاقت کے ساتھ ہو سکتا ہے اور طاقت جتھے کے ساتھ ہو سکتی ہے لیکن اگر ایک فرد بھی ایمان کامل رکھتا ہو تو اسلام اس کا فرض قرار دیتا ہے کہ وہ قرآن کے ساتھ جہاد کے لئے نکل کھڑا ہو۔باقی لوگ اس کے ساتھ آہستہ آہستہ آملیں گے مگر اُسے اُن کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا۔وہ اکیلے عیسائیوں اور پنڈتوں وغیرہ کے ساتھ جہادکے لئے نکل کھڑے ہوئے پھر آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جماعت بھی عطا فرما دی۔اسی طرح آپ نے لوگوں کو یہ بھی بتا یا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی دو صورتیں مقررکی ہیں۔ایک جنگ کے ایّام کے لئے اور ایک صلح کے ایّام کے لئے۔جب مسلمانوں پر کوئی قوم اس وجہ سے حملہ آور ہو کہ کیوں انہوں نے اسلام قبول کیا ہے اور انہیں بزور اسلام سے منحرف کرنا چاہے جیسا کہ مکہ کے لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کیا۔تو اس وقت اُن کے لئے یہ حکم ہے کہ تلوار کا مقابلہ تلوار سے کریں اور جب غیر مسلم لوگ تلوار کے ذریعہ سے لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے نہ روکیں تو اُس وقت بھی جہاد کا سلسلہ ختم نہیں ہو جاتا۔اُس وقت دلیل اور تبلیغ کی تلوار چلانے کا مسلمانوں کو حکم ہے تاکہ اسلام جس طرح جنگ کے ایّام میں ترقی کرے صلح کے ایام میں بھی ترقی کرے اور دونوں زمانے اُس کی روشنی پھیلانے کا موجب ہوں اور مسلمانوں کی قوتِ عملیہ کمزور نہ ہو۔مگر مسلمانوں