تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 119
تو ورقہ بن نوفل آپؐ پر ایمان لے آتا ہے۔گھر میں آپ نے بات کی تو حضرت علی ؓ اور زید ؓ ایمان لے آئے۔اور پھر اُسی شام یا دوسری شام حضرت ابوبکر ؓ بھی آپ پر ایمان لانے والوں میں شامل ہوگئے۔گویا نہ صرف خدا تعالیٰ نے فوراً آپؐ کا سایہ پیدا کر دیا بلکہ وہ اس سایہ کو لمبا کرتا چلا گیا۔پھر بڑھتے بڑھتے اور بھی کئی جماعتیں اس سایہ میں شامل ہونی شروع ہوئیں۔مدینہ میں خبر پہنچی تو وہاں کے کئی افراد دوڑتے ہوئے آئے اور آپ پر ایمان لے آئے۔حبشہ میں مسلمان گئے تو نجاشی نے اسلام قبول کر لیا۔غرض قدم قدم پر آپ ؐ کا سایہ بڑھتا اور ترقی کرتا چلا گیا۔پھر فرماتا ہے۔وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا اگر خدا تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت تیرے شاملِ حال نہ ہوتی اور تو خدا تعالیٰ کا سچا رسول نہ ہوتا تو چاہیے تھا کہ تیرے سایہ کو بڑھانے اور اس کو ترقی دینے کی بجائے خدا تعالیٰ تیرے سایہ کو چھوٹا کر دیتا۔پس کیا تو خدا تعالیٰ کی اس مدد کو نہیں دیکھتا کہ وہ تیرے سایہ کو لمبا کرتا چلا جاتا ہے اور کیا تیرے منکروں اور دشمنوں کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ہم کس طرح تیرے سایہ کو لمبا کرتے چلے جا رہے ہیں۔پھر بعض سائے ایسے ہوتے ہیں جو اتفاقی حادثہ کے رنگ میں ظاہر ہوتے ہیں اور گو وہ سائے بھی بڑھتے اور ترقی کرتے ہیں لیکن جس قدر وہ سائے ممتد ہوتے چلے جاتے ہیں صاف ظاہر ہوتا جاتا ہے کہ دنیوی ذرائع اور مادی سامان ان کو لمبا کر نے میں کام کر رہے ہیں۔الٰہی تائید اور نصرت کا اُن میں ہاتھ نہیں۔مگر فرماتا ہے ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا تمہارا سایہ صرف لمبا ہی نہیں ہوا بلکہ ہم سورج کو بھی اس پر دلیل بنا رہے ہیں۔یعنی ہر شخص کو نظر آرہا ہے کہ یہ سایہ مصنوعی ذرائع سے پیدا نہیں ہو ا۔دنیا میں سایہ لیمپوں سے بھی بنایا جا سکتا ہے۔ایک درخت کے پیچھے لمپ رکھ دو تو اس کا سایہ بن جائےگا۔موم بتی جلا دو تب بھی سایہ بن جائےگا۔مگر موم بتی اور لیمپ خدائی ذرائع نہیں انسانی ذرائع ہیں لیکن سورج ایک ایسی چیز ہے جو محض خدائی ذریعہ ہے۔پس فرماتا ہے ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلًا۔تیری ترقی الٰہی سامانوں اور نصرتوں کی وجہ سے ہے نہ کہ انسانی سامانوں اور مادی ذرائع کی وجہ سے۔کیا دشمن اس بات کو دیکھتا نہیں کہ ایک طرف تیری ترقی پر ترقی ہو رہی ہے اور دوسری طرف تیری ترقی مادی سامانوں اور انسانی ہاتھوں سے نہیں بلکہ خدائی ہاتھ تجھ کو بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ تو ہمارا سچا رسول ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے کہ ہم اس سایہ کو کھینچ لیں گے اور تین سو سال بعد اسلام پر رات آنے لگے گی۔مگر اس کے بعد پھر دن چڑھےگا جس کی وَجَعَلَ النَّھَارَ نُشُوْرًا (الفرقان:۴۸)میں خبر دی گئی ہے۔اور مسلمان سورج کے نئے طلوع کے ذریعہ سے بیدار ہونے لگیں گے۔اس آیت کے ماتحت ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں احمدیت بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سایہ ہے۔ہر شخص جو احمدیت میںہوتا ہےاور ہر شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایما ن لاتا ہے وہ محمد