تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 118
َایُخْزِیْکَ اللّٰہُ اَبَدًا۔آپ کسی قسم کا وہم اپنے دل میں پیدا نہ کریں۔خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ذلیل یعنی ناکام نہیں کرے گا۔گویا جس وقت آپ ؐنے اپنے خدشات کا اظہار فرمایا خدا تعالیٰ نے معًا آپؐ کے سایہ کو بڑھا دیا اور آپ ؐکی بیوی آپ ؐکے مذہب میں شامل ہو گئی۔عورتیں بظاہر تردّد کرنے والی اور متشکک طبیعت کی ہوتی ہیں مگر حضرت خدیجہ ؓ نے آ پ ؐکی بات کو سُنتے ہی کہا کہ پہلا سایہ تو میں آپؐ کا بنتی ہوں۔پس فرماتا ہے اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ۔کیا دیکھتے نہیں کہ ہم کس طرح تیرے سایہ کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔پھر حضرت خدیجہ ؓ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔وہ عربوں میں سے یہودی اور اسرائیلی علوم کے ماہر تھے۔جب حضرت خدیجہ ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے سامنے پیش کیا اور سارا واقعہ سُنایا تو انہوں نے کہا ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ نَزَّلَ اللّٰہُ عَلیٰ مُوْسیٰ ( بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ ؐ) ان پر تو وہی فرشتہ اُترا ہے جو خدا تعالیٰ نے موسیٰ ؑ پر نازل کیا تھا۔اس طرح ورقہ نے بھی بزبانِ حال کہا کہ میں بھی آپ کے سایہ میں شامل ہوتا ہوں۔یہی حقیقت اللہ تعالیٰ اس آیت میں بیان فرماتا ہے کہ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ تم دیکھتے نہیں کہ ہم تمہارے سایہ کو کس طرح بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔پہلے ہی دن جب آپ دوسرے آدمی کے پاس پہنچے تو آپؐ کا سایہ اور لمبا ہوگیا۔پھر جب گھر میں آکر اس بات کا ذکر میاں بیوی نے کیا تو ایک آزاد کردہ غلام کھڑا ہو گیا اور اُس نے کہا کہ مجھے بھی اپنے سائیوں میں شامل کر لیجئیے۔جوانی کے قریب پہنچے ہوئے علی ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ میں بھی آپ کا سایہ بنتا ہوں۔آپ ؐکے بچپن کے دوست حضرت ابو بکر ؓ نے جب یہ واقعہ سنا تو وہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! میں بھی آپ پر ایمان لاتا ہوں۔یہی وہ حقیقت ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَّ۔دنیا میں نبیوں کی مخالفتیں تو ہوا ہی کرتی ہیں اور آپ کی بھی سخت مخالفت ہوئی۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائی ایام میں ہی وہ لوگ جو آپ کے اردگر د رہتے تھے یا جن کی رائے کوئی اہمیت رکھتی تھی آپؐ کے ساتھ شامل ہو گئے۔اور اس طرح آپؐ کا سایہ فوراً ہی ممتد ہو گیا۔ایک دن بھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا نہیں گذرا کہ آپ کا سایہ لمبا نہ ہو اہو۔یہ نہیں ہو اکہ آپ کے دعویٰ پر ایک دن گذر گیا ہو اور آپ کا کوئی تابع نہ ہوا ہو۔دو دن گذر گئے ہوں اور آپ کا کوئی تابع نہ ہوا ہو یا مہینہ دو مہینے گزر گئے ہوں اور آپ ؐ کا کوئی تابع نہ ہوا ہو۔بلکہ پہلے ہی دن جب آپ اللہ تعالیٰ کے الہام کا ذکر فرماتے ہیں تو فوراً آپ کا سایہ لمبا ہو جاتا ہے اور حضرت خدیجہ ؓ آپ پر ایمان لے آتی ہیں۔پھر اُسی دن جب آپؐ چل کر باہر ورقہ بن نوفل کے پاس پہنچتے ہیں