تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 102
کیا چیز ہے۔قرآن کریم میں اُن کے خیالات کا عجیب نقشہ کھینچا گیا ہے۔فرماتا ہے کافر کہتے تھے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عجیب انسان ہیں کہ انہوں نے سب معبودوں کو کوٹ کاٹ کر ایک معبود بنا دیا ہے۔گویا اُن کے نزدیک لات ،منات اور عزیٰ وغیرہ کا قیمہ بنا کر ایک خدا بنا دیا گیا تھا۔اُن کے ذہن میں یہ آہی نہیں سکتا تھا کہ لات اور منات اور عزیٰ معبود ہیں ہی نہیں۔وہ ایک خدا کے یہ معنے سمجھتے تھے کہ ان سب کو ملا کر ایک بنا دیا گیا ہے۔چنانچہ وہ کہتے تھے اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھًا وَّاحِدًا ( ص :۶ )ہمارے بہت سے معبود تھے مگر اس نے ان سب کو ایک بنا دیا ہے۔وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ ایک خدا پیش کرتا ہے یا کہتا ہے کہ دنیا کا ایک ہی پیدا کرنے والا ہے بلکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس نے سارے معبودوں کو اکٹھا کر کے ایک بنا دیا ہے۔گو یا اُن کے نزدیک توحید کا پیغام لات۔منات اور عزیٰ کو کوٹ کاٹ کر ایک کر دینا تھا وہ حیران ہوتے تھے کہ یہ کیا تعلیم ہے۔لیکن آج ہمارا چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی سمجھتا ہے کہ توحید کیا چیز ہے کیونکہ وہ لات ، منات اور عزیٰ کو جانتا ہی نہیں۔وہ پیدائش سے ہی سمجھتا ہے کہ خدا ایک ہے۔اور ایک چھوٹے بچےکے لئے بھی یہ اتنا حل شدہ مسئلہ ہے کہ اگر اُسے کہو کہ ایک نہیں بلکہ کئی خدا ہیں تو وہ ہنس پڑے گا کہ مجھے بیوقوف بناتے ہو۔لیکن ابوجہل کے سامنے جب یہ بات پیش کی جاتی تھی کہ خدا ایک ہے تو وہ بھی ہنس پڑتا تھا۔اور کہتا تھا کہ مجھے بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔گویا ہمارے بچہ کے نزدیک یہ کہنا کہ ایک سے زیادہ خدا ہیں اُسے بیوقوف بنانا ہے اور ابوجہل کے نزدیک یہ کہنا کہ زیادہ معبود نہیں بلکہ ایک ہی معبود ہے اسے بیوقوف بنانا تھا۔تو بعد میں آنے والوںکے لئے ایک نئی ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے سورۂ فاتحہ رکھی۔پھر سورۃ بقرہ رکھی پھر سورۃ اٰل عمران رکھی۔پھر سورۃ النساء رکھی۔غرض ترتیب ِ قرآن نہایت اہم حکمتوں پر مبنی ہے نزول کی ترتیب اُن لوگوں کے مطابق تھی جو اُس زمانہ میں تھے۔اور موجودہ ترتیب آئندہ آنے والی نسلوں کی ضرورت کے مطابق ہے اور یہ اس کلام کے منجانب اللہ ہونے کا ایک بڑا بھاری ثبوت ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ موجودہ ترتیب بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ہے۔کسی او ر شخص نے آپ کے سوا قائم نہیں کی۔لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً سے مسلمان مفسرین کو ایک یہ خیال بھی پیدا ہو ا ہے کہ شاید پہلے سب نبیوں پر جُمْلَۃً وَّ احِدَۃً کلام نازل ہوتا تھا۔تبھی دشمنوں نے یہ اعتراض کیا ہے مگر انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ قرآ ن کریم میں یہ اعتراض کفارِ مکہ کی طرف سے نقل کیا گیا ہے اور کفار مکہ تو کسی کتاب کے قائل ہی نہ تھے کجا یہ کہ وہ اس بات کے قائل ہوں کہ سب پہلے کلام یکد م نازل ہوئے تھے۔اگر یہود و نصاریٰ کی طرف سے یہ اعتراض