تفسیر کبیر (جلد ۹)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 704

تفسیر کبیر (جلد ۹) — Page 96

تفسیر۔ان آیات میں کفار کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں ہوگیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے حسب موقع خود تصنیف کرلیتے ہیں۔فرماتا ہے یہ درست ہے واقعہ میں یہ قرآن ایک ہی دفعہ نہیں اُترا بلکہ آہستہ آہستہ ایک لمبی مدّت میں نازل ہوا ہے۔مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس طریق سے تیرے دل کو ثبات بخشنا چاہتے ہیں۔اور پھر ہم نے اس کی ترتیب بھی نہایت اعلیٰ درجہ کی رکھی ہے۔اسی طرح قرآن کریم کو آہستہ آہستہ نازل کرنے کا ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ کوئی بات جو اعتراض کے طور پر یہ لوگ بیان کر دیتے ہیں تو ہم اس کے مقابلہ میں حق اور بہتر تفسیر قرآن کریم میں بیان کر دیتے ہیں۔تعجب ہے کہ عیسائی مستشرقین اب بھی یہی اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ قرآن کریم کا ٹکڑے ٹکڑے نازل ہونا بتاتا ہے کہ یہ خدا کاکلا م نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تصنیف ہے۔آخر خد ا کو کیا ضرورت تھی کہ اپنا کلام ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کرتا اُسے تو اگلا پچھلا سب حال معلوم ہوتا ہے اور وہ اپنا کلام یکدم بھی نازل کر سکتا ہے۔اس کا آہستہ آہستہ ایک کتاب کی صورت میں مرتب ہونا بتا تا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے جیسے حالات پیش آتے جاتے تھے ویسا ہی وہ اُن کا قرآن کریم میں ذکر کر دیتے تھے (A Comprehensive Commentary on the Quran by Wehry The Preliminary Discourse sec iii p 107,108 )۔اللہ تعالیٰ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم نے اپنے کلام کے نزول کے لئے یہ طریق اس لئے اختیار کیا ہے کہ ہم اس کے ذریعہ تیرے دل کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔گویا قرآن کریم کا ٹکڑے ٹکڑے نازل ہونا خدا تعالیٰ کی کسی کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو ثبات اور طاقت حاصل ہو۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے آہستہ آہستہ نازل ہونے سے آپ ؐ کے دل کی مضبوطی کس طرح ہو سکتی تھی سواس کے متعلق چند امور کا بیان کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔(۱) پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر ایک ہی دفعہ سارا قرآن نازل ہو جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے استدلال کرتے رہتے تو آپ ؐ کے دل کو ایسی تقویت حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔جیسے کسی امر کے متعلق فوراً کلام الٰہی کے اترنے سے ہو سکتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو جو لطف اس میں آتا ہوگا کہ آپ ؐ کوئی کام کرتے اور اس کے متعلق اُسی وقت وحی نازل ہو جاتی اور خدا تعالیٰ اپنی مرضی اور منشاء کا اظہار کر دیتا۔وہ لطف ہمیں