تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 91
مسیح محمدیؐ سے مشابہت حاصل ہے ) حزقیلؑ اپنی کتاب کے پہلے باب میںبتاتے ہیںکہ کس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو بابل میںظاہر کیا اور پھران کو نبوت کاکام سپرد کیاان کی کتاب کے باب ۳آیت ۲۶سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے ابتدائی دنوں میں حضرت زکریا ؑ کی طرح انہیںخاموش رہنے کاحکم ملا تھا۔حزقیل اپنی قوم کی دوبارہ نجات اور ترقی کی بھی خبر دیتے ہیں اور ایک لمبے عرصہ تک اس کے محفوظ رہنے کی پیشگوئی کرتے ہیں حزقیل نے دوبارہ یروشلم کے معبد بنانے کے متعلق بھی پیشگوئی کی ہےاور اس کے متعلق ہدایتیں دی ہیں۔چنانچہ ان کی کتاب باب ۴۰،۴۱،۴۲،۴۳،۴۴ میں وہ تمام قوانین بیان کئے گئے ہیں جن کے مطابق معبد بنایا جائے گا۔اور جس کے مطابق کاہن کام کریں گے۔حزقیل فرشتوںکا ذکر نہیں کرتا لیکن وہ یہ ضرورکہتا ہے کہ روحیں اس کوا ٹھاکر لے گئیں(حزقیل باب ۲ آیت ۲) او ریقیناً اس سے یہی معلوم ہوتاہے کہ وہ فرشتوں کی طرف اشارہ کرتاہے۔انسان کے متعلق حزقیل ؑ کی یہی تعلیم ہے کہ وہ مقتدر ہے اور بد سے نیک اور نیک سے بد ہونےکی طاقت رکھتاہے۔وہ اس کاطریقہ یہی بتاتاہے کہ انسان ارادہ کرے اورعزم کرلے۔چنانچہ حزقیل باب ۱۸ میں تمثیل کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح اچھے باپ سے برا بیٹا اور برے باپ سے اچھا بیٹا پیداہو سکتا ہے۔اور یہ کہ باپ کا گناہ بیٹے کو نہیں پہنچتا او راس کی سزا اس کو نہیںملتی چنانچہ وہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ’’تم کہو گے کہ کیا بیٹا باپ کے گناہ کابوجھ نہیںاٹھاتا سو جبکہ بیٹے نے و ہ جو شرع میںدرست اور روا ہے کیااور اس نے میرے حکموںکو حفظ کیا تو وہ یقیناً جئے گا۔وہ جان جو گناہ کرتی ہے سو ہی مرےگی بیٹا باپ کی بد کاری کابوجھ نہیں اٹھاوے گا۔نہ باپ بیٹے کی بدکاری کا بوجھ اٹھاوےگا۔صادق کی صداقت اس پر ہوگی اور شریر کی شرارت اس پرپڑےگی لیکن اگر شریر اپنی ساری خطائوں سے جواس نے کی ہیںباز آوے اور میرے سارے حکموںکو حفظ کرے او رجو کچھ شرع میں درست اور رواہے کرے تو وہ یقیناً جیئے گا۔وہ نہ مرے گا۔اس کے سارے گناہ جو اس نے کئے ا س کے لئے محسوب نہ ہوںگے۔‘‘ (حزقیل باب ۱۸ آیت ۱۹ تا ۲۲ ) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حزقیل توبہ کے ذریعہ سے دائمی زندگی کے قائل تھے۔پھر وہ توبہ پر زیادہ زور دیتا ہے اور کہتا ہے ’’ سو توبہ کرو اور اپنی ساری بدکاریوں سے باز آئو تاکہ بدکاری تمہاری ہلاکت کا باعث نہ ہو سارے برے کام جنہیںکر کے تم گناہ گار ہوتے ہو آپ سے جدا کر کے پھینک دو اور اپنے لئے ایک