تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 90
وہ در حقیقت بڑے بڑے علماء تھے۔یایوں کہہ لو کہ خالی مجددانہ رنگ رکھتے تھے۔نبوت کا رنگ نہیں رکھتے تھے۔حزقیل اپنے آپ کوآدم زاد کہتے تھے چنانچہ دیکھو حزقیل باب ۲ آیت ۱و باب ۳ آیت ۲۵وباب ۴ آیت ۱ و باب ۵ آیت ۱وباب ۶آیت۲ (مسیح بھی اپنےآپ کو ابن آدم کہتا تھااور حنوک کے متعلق بھی آتا ہے کہ اسے ابن آدم کہا گیا ) غرض کثرت کے ساتھ ان کو آدم زادیا دوسرے لفظوں میں ابن آدم کہا گیا ہے بلکہ قریباً جہاں بھی خدا ان کو مخاطب کرتاہے آدم زاد کے لفظ سے مخاطب کرتاہے یہ ایک مشابہت ہے جوحزقیل ؑ اور ادریس ؑ اور مسیح ؑ میں ہے۔حزقیل کچھ عرصہ تک خاموش بھی رہے اور انہوں نے کہا کہ میں خدا کے حکم سے خاموش رہا ہوں(حزقیل ۳:۲۶) اس میںان کو زکریا ؑ سے مشابہت معلوم ہوتی ہے۔حزقیل کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبو کدنضر کے بہت مداح تھے اور اسرائیل اور مصر اور ٹائر کے خلاف اس نے جو اقدام کئے تھے ان کو وہ جائز سمجھتے تھے اور ان لوگوں کی شرارتوں کا اسے نتیجہ سمجھتے تھے(حزقیل باب ۲۶ آیت ۷)۔حزقیل کی کتاب غالباًبائیبل کی پہلی اور آخری کتاب ہے جس کا کچھ حصہ خود نبی نے لکھاہے۔اسی کتاب کے کچھ حصے تو ان کے بیان کئے معلوم ہوتے ہیں اور کچھ لکھے ہوئے ہیں۔(انسائیکلو پیڈیا ببلیکا صفحہ ۱۴۵۶تا ۱۴۵۸زیر لفظ EZEKEIL) حزقیل نبی اور اسی طرح یرمیاہ نبی کی کتا بوں کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں اس بات کی تائید میں تھے کہ بابلی حکومت کی مخالفت نہ کی جائے بلکہ اس کی تائید کی جائے۔اس وقت کے علماء نے یرمیا ہ نبی اور حزقیل دونوں کو ہی ملک کاغدار قرار دیا (یرمیاہ باب ۲۶ آیت ۱ تا ۱۱و باب ۱۸ آیت ۱ تا ۲۰ و حزقیل باب ۱۷ آیت ۱۱ تا ۱۶)۔جس طرح ٹائٹس کے زمانہ میںرومیوں کی حمایت کرنے والے مسیح کو بھی یہودیوں نے غدا ر قرار دیا تھا۔یااس زمانہ کے علماء نے مسیح موعود علیہ السلام کو جنہوں نے سکھوںکے مقابلہ میںانگریزوں کی تعریف کی غدا ر قرار دیا۔اس کے برخلاف حزقیل نے ان لوگوں کو غدار قرار دیا ہے جوبابلی حکومت کا مقابلہ کرنے کی تلقین کرتے تھے(حزقیل باب ۱۷ آیت ۱۱ تا ۱۶) حزقیل ؑ کا خیال تھا کہ وہ یہودی جو پکڑ کر بابل لائے گئے ان کے ذریعہ ایک نئی یہودی قوم جو اپنے مذہب پر قائم ہوگی کھڑی کی جائےگی چنانچہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور اس کے بعد یہودیوں نے کبھی ظاہری شرک نہیں کیا۔کچھ تو اس وجہ سے کہ جو سزا ان کوملی تھی اس سے سبق حاصل ہوگیا۔اور کچھ اس وجہ سے کہ ایک لمبے عرصہ تک بت پرست قوم میںرہنے کی وجہ سے ان پر بتوں کی حقیقت واضح ہوگئی (اس معاملہ میں حزقیل ؑ کو مسیح ناصر یؑ اور