تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 85
صحت کو نقصان پہنچا دے مگر اس کی جان نہ جائے تب شیطان نے اس کی جلد میں ایک بیماری پیدا کردی اور سرسے لے کر تلووں تک پھوڑے نکل آئے تب اس کی بیوی نے کہا اب یہ شکر گذاری چھوڑ خدا کو ملامت کر اور مرجا ایوب نے بات نہ مانی اور کہا یہ کس طر ح ہو سکتا ہے کہ ہم اس کی نعمتیںلیںاور دیں کچھ نہ۔تب اس کے تینوں مرید دور دور کے علاقوں سے آئے اور اس کی حالت زار دیکھ کر رونے لگ گئے (باب ۳)تب ایوب نے یہ دیکھ کر کہ اس کو بدی کی طرف پھرانے کی کوشش کی جارہی ہے اپنی پیدائش پر لعنت کی (باب۴) اس پر اس کے ایک مرید نے اس کو کہاکہ عذاب تو خداکے دشمنوں پر آیا کرتاہے۔نیکوں پر نہیںاس لئے ضرور تیرے اندر کوئی بدی ہے (باب ۵) تب ایوب نے کہا سزا بدی کی وجہ سے ملتی ہے۔سزاکے وقت انسان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو خدا پر چھوڑدے (باب ۶) تب ایوب دعاکرتاہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ پرموت نازل کرے تو بہتر ہے (باب۷) بعد میںایوب پچھتا تاہے۔اور اس پر عذر کرتاہے کہ میںنے کیوں موت کی تمنا کی (باب۸) ان کا ایک مرید بلددنامی بتاتاہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ نافرمانوں کو سزا دیتاہے (باب ۹) پھرلکھاہے ایوب نے اپنے معترضین کوجواب دیا کہ میں نہ اپنے آپ کو نیک کہتا ہوں اورنہ یہ کہتاہو ں کہ خداعادل نہیں۔خدا عادل ضرور ہے مگر موت اور ہلاکت تو ہر ایک پر آرہی ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ جب وہ بے گناہ کو سزادے رہا ہوتاہے تو وہ اس کاامتحان کر رہا ہوتاہے۔پھر اس نے کہا کہ زمین پر شریر حاکم ہیں اور میں دیکھ رہا ہوں کہ میری عمر تیز تیز گذر رہی ہے میرا یہ کہنا کہ میںپوری طرح صبر کروں گا بے فائدہ ہے۔کیونکہ تم لوگ تو پھر بھی مجھے گناہ گار قرار دو گے۔کیونکہ تمہار ا یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ صر ف شریر کو سزا دیتاہے اور میرا یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ بے گناہ کو بھی تکلیف میں ڈالتاہے کہ آزمائش کرے (باب ۱۰) آخر میںایوب کا قصہ بائیبل نے اس طرح ختم کیا ہے کہ اس کے شاگرد جو اس سے کج بحثی کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کوا لہام کیا کہ بیل اور بکرے ایوب کے پاس لائو اور اپنے گناہوں کی معافی کے لئے اس سے سوختنی قربانی کروائو اس کے بعد لکھا ہے کہ اس کے دوست بچے بیویاں سب واپس آگئے۔دولت اس کی دوگنی ہوگئی اور بڑی لمبی عمر تک زندہ رہا۔جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے ایوب سے ملتا جلتا قصہ ہندوستان میںبھی پایا جاتاہے۔ہندوؤں میں اس شخص کانام جس کے ساتھ یہ واقعہ گذرا ہریش چندر لکھا ہے واقعہ قریباً ایوب جیسا ہے کیونکہ اس کے متعلق بھی لکھا ہے کہ دیوتائوں کے ساتھ شیطان مل کر خدا کے پاس گیا اور اس سے ہریش چندر کی تعریف سن کر خدا سے اجازت لی کہ میں اس کا مال تباہ کردوں مگر ہریش چندر اپنے سچ اور دیانت پر قائم رہا کئی تجربے ہوئے مگر وہ نہ پھسلابائیبل میںاشارہ ملتاہے کہ ایوب کاواقعہ ہندوستان سے آیا ہے اور ایوب غالباً اس کے نام کاترجمہ ہے یا استعارۃً رکھا گیا ہے وہ اشارہ