تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 627 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 627

عبداللہ بن جبیر ؓ انصاری کو بلا کر فرمایا کہ خواہ ہم مارے جائیں یا جیت جائیں تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا مگر جب کفار کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے اُن کا تعاقب شروع کردیا تو اُس درہ پر جو سپاہی مقرر تھے۔انہوں نے اپنے افسر سے کہا کہ اب تو فتح ہو چکی ہے۔اب ہمارا یہاں ٹھہرنا بے کار ہے ہمیں اجازت دیں کہ ہم بھی جہاد میں شامل ہونے کا ثواب لے لیں۔اُن کے افسر نے انہیں سمجھایا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی نہ کرو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خواہ فتح ہو یا شکست تم نے اس درہ کو نہیں چھوڑنا اس لئے میں تمہیں جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ خواہ فتح ہو جائے پھر بھی تم نے نہیں ہلنا۔آپ کا مقصد تو صرف تاکید کرنا تھا۔اب جبکہ فتح ہو چکی ہے ہمارا یہاں کیا کام ہے۔چنانچہ انہوں نے خدا کے رسول کے حکم پر اپنی رائے کو فو قیت دیتے ہوئے اُس درّہ کو چھوڑ دیا۔صرف ان کا افسر اور چند سپاہی باقی رہ گئے جب کفار کا لشکر مکہ کی طرف بھاگتا چلا جا رہا تھا تو اچانک خالد بن ولید ؓ نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا تو درہ کو خالی پایا۔انہوں نے عمر و بن العاص ؓ کو آواز دی یہ دونوں ابھی تک اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے اور کہا دیکھو کیسا اچھا موقعہ ہے آئو ہم مڑ کر مسلمانوں پر حملہ کر دیں چنانچہ دونوں جرنیلوں نے اپنے بھاگتے ہوئے دستوں کو سنبھالا اور اسلامی لشکر کا بازو کاٹتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔چند مسلمان جو وہاں موجود تھے اور جو دشمن کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ان کو انہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اسلامی لشکر پر پشت پر سے حملہ کر دیا۔کفار کا یہ حملہ ایسا اچانک تھا کہ مسلمان جو فتح کی خوشی میں اِدھر اُدھر پھیل چکے تھے اُن کے قدم جم نہ سکے۔صرف چند صحابہ ؓ دوڑ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گر دجمع ہوگئے جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ بیس تھی۔مگر یہ چند لوگ کب تک دشمن کا مقابلہ کر سکتے تھے۔آخر کفار کے ایک ریلے کی وجہ سے مسلمان سپاہی بھی پیچھے کی طرف دھکیلے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں تن تنہا رہ گئے۔اسی حالت میں آپ کے خود پر ایک پتھر لگا جس کی وجہ سے خود کے کیل آپ کے سر میں چُبھ گئے اور آپ بے ہوش ہو کر ایک گڑھے میں گِر گئے جو بعض شریروں نے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچانے کے لئے کھود کر ڈھانپ رکھے تھے۔اس کے بعد کچھ اور صحابہ ؓ شہید ہوئے اور اُن کی لاشیں آپ کے جسم مبارک پر جا گریں اور لوگوں میں یہ مشہور ہوگیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوگئے ہیں۔مگر وہ صحابہ ؓ جو کفار کے ریلے کی وجہ سے پیچھے دھکیل دئیے گئے تھے کفّا ر کے پیچھے ہٹتے ہی پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع ہوگئے اور انہوں نے آپ کو گڑھے میں سے باہر نکالا۔تھوڑی دیر کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آگیا اور آپ نے چاروں طرف میدان میں آدمی دوڑا دئیے کہ مسلمان پھر اکٹھے ہوجائیں اور آپ انہیں ساتھ