تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 626 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 626

بلاتا ہے۔ایک صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ مکہ کے تازہ نو مسلموں کی بزدلی کی وجہ سے جب اسلامی لشکر کا اگلا حصہ پیچھے کی طرف بھاگا تو ہماری سواریاں بھی دوڑ پڑیں اور جتنا ہم روکتے تھے اتناہی وہ پیچھے کی طرف بھاگتی تھیں۔یہاں تک کہ عباس ؓ کی آواز میدان میں گونجنے لگی کہ ’’ اے سورۂ بقرہ کے صحابیو! اے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو ! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔‘‘ یہ آواز جب میرے کان میں پڑی تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں زندہ نہیں بلکہ مُردہ ہوں۔اور اسرافیل کا صور فضا میں گونج رہا۔میں نے اپنے اونٹ کی لگام زور سے کھینچی اور اُس کا سر پیٹھ سے لگ گیا۔لیکن وہ اتنا بِدکا ہوا تھا کہ جونہی میں نے لگا م ڈھیلی کی وہ پھر پیچھے کی طرف دوڑا۔اس پر میں نے اور میرے بہت سے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں اور کئی تو اونٹوں پر سے کود گئے اور کئی نے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔اور چند لمحوں میں ہی وہ دس ہزار صحابہ ؓ کا لشکر جو بے اختیار مکہ کی طرف بھاگا جارہا تھا آپ کے گِرد جمع ہو گیا اور تھوڑی دیر میں پہاڑیوں پر چڑھ کر اُس نے دشمن کا تہس نہس کر دیا۔اور یہ خطرناک شکست ایک عظیم الشان فتح کی صورت میں بد ل گئی ( عمدة القاری شرح صحیح البخاری کتاب المغازی باب قول اللہ ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم و السیرة الحلبیة باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ و سلم غزوة حنین)۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ١ۙ وَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْـًٔا وَّ ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ۔ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِيْنَ( التوبۃ: ۲۵۔۲۶ )یعنی اللہ تعالیٰ نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کی ہے۔خصوصًا حنین کی جنگ کے دن جبکہ تمہاری کثرت نے تم کو متکبر بنا دیا تھا۔پھر وہ کثرت تمہارے کسی کام نہ آئی اور زمین باوجود فراخی کے تم پر تنگ ہوگئی اور تم نے پیٹھ دکھاتے ہوئے منہ پھیر لیا۔پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی سکینت اپنے رسول اور مومنوں پر اتاری اور ایسے لشکر آسمان سے نازل کئے جن کو تم نہیں دیکھ رہے تھے اور کفار کو عذاب دیا اور یہی کفّا ر کی جزاء ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کی اہمیت پر اور زیادہ زور دیتا اور فرماتا ہے کہ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔یعنی جو لوگ اس رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آفت نہ پہنچ جائے یا وہ کسی دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہو جائیں۔چنانچہ دیکھ لو جنگِ اُحد میں اس حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے اسلامی لشکر کو کتنا نقصان پہنچا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پہاڑی درہ کی حفاظت کے لئے پچاس سپاہی مقرر فرمائے تھے اور یہ درہ اتنا اہم تھا کہ آپ نے اُن کے افسر