تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 598

کا خوف اپنے دل میں نہیں آنے دیا۔اسی طرح حضرت عثمان ؓ جیسے باحیا اور رقیق القلب انسان نے اندرونی مخالفت کا مقابلہ جس یقین سے کیا ہے وہ انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے حالانکہ وہ عام طور پر کمزور سمجھے جاتے تھے مگر جب اُن کا اپنا زمانہ آیا تو انہوں نے ایسی بہادری او ر جرأت سے کام لیا کہ انسان ان واقعات کو پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے۔یہی حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہے کسی مخالفت یا خطرے کی انہوں نے پرواہ نہیں کی۔حالانکہ اندرونی خطرے بھی تھے اور بیرونی بھی مگر ان کے مدّنظر صرف یہی امر رہا کہ خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہو اور ذرا بھی کسی سے خوف کھا کر اُس منشاء الٰہی میں جو انہوں نے سمجھا تھا فرق نہیں آنے دیا۔غرض تمام خلفاء کے حالات میں ہمیں يَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا کا نہایت اعلیٰ درجہ کا نظارہ نظر آتا ہے جو اس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خود مقامِ خلافت پر کھڑا کیا تھا اور وہ آپ اُن کی تائید اور نصر ت کا ذمہ وار رہا۔اب میں اُن اعتراضات کو لیتا ہوں جو عام طور پر اس آیت پر کئے جاتے ہیں۔پہلا اعتراض اس آیت پر یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں امت مسلمہ سے وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد سے اور امت کو خلیفہ بنانے کا وعدہ ہے نہ کہ بعض افراد کو۔پس اس سے مراد مسلمانوں کو غلبہ اور حکومت کا میسر آجانا ہے نہ کہ بعض افراد کا خلافت پر متمکن ہو جانا۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے بے شک یہ وعدہ قوم سے ہے مگر قوم سے کسی وعدہ کے کئے جانے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ افراد کے ذریعہ وہ وعدہ پورا نہ ہو۔بعض وعدے قوم سے ہوتے ہیں لیکن افراد کے ذریعے پورے کئے جاتے ہیں۔اور کہا یہی جاتا ہے کہ قوم سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہوگیا۔اس کی مثالیں دنیا کی ہر زبان میں ملتی ہیں۔مثلاً ہماری زبان میں ہی کہا جاتا ہے کہ انگریز بادشاہ ہیں۔اب کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ ہر انگریز بادشاہ ہے۔ہر انگریز تو نہ بادشاہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔مگر کہا یہی جاتا ہے کہ انگریز بادشاہ ہیں۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم حاکم ہے۔حالانکہ ساری قوم کہاں حاکم ہوتی ہے چند افراد کے سپرد حکومت کا نظم و نسق ہوتا ہے اور باقی سب اس کے تابع ہوتے ہیں۔اسی طرح کہا جاتا ہے کہ فلاں قوم بڑی دولت مند ہے مگر اس کے یہ معنے تو نہیں ہوتے کہ اس قوم کا ہر فرد دولتمند ہے۔انگریزوں کے متعلق عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ بڑے دولتمند ہیں حالانکہ اُن میں بڑے بڑے غریب بھی ہوتے ہیں۔ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے ایک دفعہ سُنایا کہ جب وہ لنڈن میں تھے تو ایک دن جس مکان میں وہ رہتے تھے اس کا کوڑا کرکٹ اُٹھا کر خادمہ نے جب باہر پھینکا تو ایک انگریز لڑکا جھپٹ کر آیا اور اُس نے کوڑے کرکٹ کے انبار میں سے ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا نکال کر کھا لیا۔اسی طرح برنڈزی میں