تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 597
پہلے ہی ایک خطرناک جنگ میں مبتلا ہیں ایران پر حملہ کرنے کا خیال بھی کر سکتے ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ تک تو ایرانیوں کی شکست کی بڑی وجہ یہی ہوئی کہ دارالخلافہ سے مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی فوج نہیں آئی۔او ر بادشاہ خیال کرتا رہا کہ لوگ جھوٹی خبریں اُڑا رہے ہیں۔مگر جب کثرت اور تواتر کے ساتھ اسے اس قسم کی خبریں پہنچیں تو اُس نے اپنا ایک جرنیل بھیجا اور اُسے حکم دیا کہ میرے پاس صحیح حالات کی رپورٹ کرو۔چنانچہ اُس نے جب رپورٹ کی کہ مسلمان واقعہ میں حملہ کر رہے ہیں اور وہ بہت سے حصوں پر قابض بھی ہوچکے ہیں۔تب اُس نے ان کے مقابلہ کے لئے فوج بھیجی۔اس سے تم اندازہ لگا لو کہ مسلمانوں کا اس لڑائی میں کودنا بظاہر کتنا خطرناک تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی وہ رومی لشکر کا بھی مقابلہ کر رہے تھے۔مگر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو خدا تعالیٰ نے مقامِ خلافت پر کھڑا کر نے کے بعد جو قوت بخشی تھی اس کے آگے ان چیزوں کی کوئی حقیقت نہ تھی۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اتنے مسلمان کہاں سے آئیں گے جو ایرانی لشکر کا مقابلہ کر سکیں۔انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ اتنا سامان اور اسلحہ کہاں سے آئے گا جو ایرانی فوجوں کے سامان اور اسلحہ کے مقابلہ میں کا م آسکے۔انہوں نے ایرانیوں کی سرکشی کی خبر سُنتے ہی فوراً اپنے سپاہیوں کو اس آگ میں کود جانے کا حکم دے دیا اور کسریٰ سے بھی جنگ شروع کردی(الفخری فی الآداب السلطانیۃ والدول الاسلامیة شرح الحال فی تجھیز الجیش الی العراق و استخلاص الملک بن فارس)۔اس کے بعد جب حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو وہی عمر ؓ جو ابوبکر ؓ کو یہ مشورہ دیتے تھے کہ اتنے بڑے لشکر کا ہم کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں وہ بہت ہیں اور ہم تھوڑے۔جیشِ اسامہ ؓ کو روک لیا جائے تاکہ وہ ہماری مدد کر سکے۔اُن میں بھی وہی توکل آگیا اور انہوں نے بھی ایک ہی وقت میں قیصر و کسریٰ سے جنگ شروع کر دی اور آخر ان دونوں حکومتوں کا تختہ الٹ کر رکھ دیا۔اسی جنگ کے نتیجہ میں جب ایران فتح ہو ا اور کسریٰ کے خزائن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو مال غنیمت میں کسریٰ کا ایک رومال بھی آیا جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملا۔ایک دن انہیں کھانسی اُٹھی تو انہو ں نے اپنی جیب میں سے کسریٰ شاہِ ایران کا رومال نکا ل کر اس میں تھوک دیا اور پھر کہا بَـخْ بَـخْ اَبُوْھُرَیْرَۃَ۔واہ ،واہ ابو ہریرہ ! تیری بھی کیاشان ہے کہ تو آج کسریٰ شاہ ِ ایران کے رومال میں تھوک رہا ہے۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا الفاظ استعمال کئے ہیں۔انہوں نے کہا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض دفعہ مجھے اتنے فاقے ہوتے تھے کہ میں بھوک سے بیتاب ہو کر بے ہوش ہو جاتا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مجھے مرگی کا دورہ ہو گیا ہے۔میرے سر پر جوتیاں مارا کرتے مگر آج یہ حالت ہے کہ میں شاہی رومال میں تھوک رہا ہوں۔تويَعْبُدُوْنَنِيْ۠ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـًٔا کی علامت خدا تعالیٰ نے خلفائے راشدین کے ذریعہ نہایت واضح رنگ میں پوری فرمائی اور انہوں نے خدا تعالیٰ کے سوا کبھی کسی