تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 596

ہیں اور جبکہ وہ لڑنے مرنے کے لئے تیار ہیں اُن سے زکوٰۃ وصول کرنا مناسب نہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ لوگ اونٹ کا گھٹنا باندھنے والی ایک رسّی بھی زکوٰۃ میں دیا کرتے تھے اور اَب نہیں دیں گے تو میں اُس وقت تک اُن سے جنگ جاری رکھوںگا جب تک کہ وہ رسّی بھی اُن سے وصول نہ کر لوں(بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ )۔اس پر صحابہؓ نے کہا اگر جیشِ اسامہ ؓ بھی چلاگیا۔اور ان لوگوں سے عارضی صلح بھی نہ کی گئی تو پھر دشمن کا کون مقابلہ کرےگا۔مدینہ میں تو بڈھے اور کمزور لوگ یا چند نوجوان ہیں وہ بھلا لاکھوں کا کہاں مقابلہ کر سکتے ہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔اے دوستو! اگر تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو ابو بکر ؓ اکیلا ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نکل کھڑا ہوگا۔یہ دعویٰ اس شخص کا ہے جسے فنونِ جنگ سے کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی اور جس کے متعلق عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ دل کا کمزور ہے۔پھر یہ جرأت ، یہ دلیری ، یہ یقین اور یہ وثوق آپ میں کہاں سے آیا ؟ اسی وجہ سے آیا کہ آپ نے یہ سمجھ لیا تھا کہ میں خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوں اور مجھ پر ہی تمام کاموں کی ذمہ داری ہے۔پس میرا فرض ہے کہ میں مقابلہ کے لئے تیار ہو جائوں۔کامیابی دینا یا نہ دینا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اگر وہ کامیابی دینا چاہےگا تو آپ دے دےگا اور اگر نہیں دینا چاہےگا تو سارے لشکر مل کر بھی کامیاب نہیں کر سکتے۔(تاریخ الخمیس ذکر بدء الردة والطبری بقیة الخبر عن امر الکذاب العنسی)۔اسی طرح حضرت ابوبکر ؓ کی یہ جرأت دیکھو کہ انہوں نے اپنے عہد خلافت میں دنیا کی دو زبردست حکومتوں یعنی قیصرو کسریٰ سے بیک وقت جنگ شروع کر دی۔حالانکہ اس زمانہ میں صرف قیصر کا مقابلہ کرنا بھی ایسا ہی تھا۔جیسے آج کل افغانستان کی حکومت امریکہ یا انگلستان سے لڑائی شروع کر دے۔مگر باوجود اتنی زبردست حکومت کے ساتھ جنگ جاری ہونے کے جب حضرت ابوبکر ؓ کے سامنے یہ سوال پیش ہوا کہ کسریٰ کی فوجوں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں سرگرمی دکھانی شروع کر دی ہے اور اُن کے بہت سے علاقے جو مسلمانوں کے قبضہ میں تھے اُن میں بغاوت اور سرکشی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں تو آپ نے حکم دیا کہ فوراً ایران پر حملہ کردو۔صحابہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک ہی وقت میں دو زبردست حکومتوں سے کس طرح مقابلہ ہوگا۔مگر آپ فرماتے ہیں کچھ پرواہ نہیں جائو اور مقابلہ کرو۔مسلمان چونکہ اس وقت رومی حکومت سے جنگ کرنے میں مشغول تھے اس لئے ایران پر مسلمانوں کا یہ حملہ اس قدر دُور ازقیاس تھا کہ ایران کے بادشاہ کو جب یہ خبریں پہنچیں کہ مسلمان فوجیں بڑھتی چلی آرہی ہیں تو اُس نے ان خبروں کو کوئی اہمیت نہ دی اور کہا کہ لوگ خواہ مخواہ جھوٹی افواہیں اُڑارہے ہیں۔مسلمان بھلا ایسی حالت میں جبکہ وہ