تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 56

کے والد بھی ان کی پیدا ئش سے قبل فوت ہوگئے تھے اور دونوںکوان کے چچا نے پالا تھااور پھر دونوں پالنے والے بھی مشرک تھے۔اور دونوں نبیوں نے ان کو توحید کی تبلیغ کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا اور ان کی قوم نے بھی ان کو کہاتھا کہ ہمارے باپ دادے ان بتوںکی پوجاکرتے تھے اس لئے ہم ان کو نہیں چھوڑ سکتے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ابوطالب کو اسلام لانے کی دعوت دی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ اے میرے بھتیجے میںجانتاہوں کہ تیری باتیں سچی ہیںمگر لوگ کہیں گے کہ اس نے اپنے باپ دادے کا مذہب ڈرکر چھوڑ دیا ہے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام طمع الرسول فی اسلام ابی طالب و حدیث ذالک) پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنے بزرگوں سے یہی کہااور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے بزرگوںسے یہی کہاکہ اگر تمہارے باپ دادے گمراہ ہوںگے تو کیاپھر بھی تم ان کے پیچھے چلو گے۔(المائدۃ:۱۰۵ ) اس پرحضر ت ا براہیم علیہ السلام کی قوم نے کہاکہ کیا تم مذاق کر رہے ہو یاکو ئی سچی تعلیم لائے ہو کیایہ درست ہے کہ ہمارے باپ دادا بھی غلطی کر سکتے تھے انبیاء کے دشمن چونکہ د ل میںان کی قوت استدلال سے متاثر اور مرعوب ہوتے ہیں ان کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ خود ہی کہہ دیںکہ ہم تو ہنسی کرتے تھے اور اس طرح ان کو اس فکر سے نجات ملے جیسے حضرت خلیفۃا لمسیح اول رضی اللہ عنہحکیم الہ دین صاحب کاحال سناتے تھے کہ وہ وفات مسیح کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ مرزا صاحب نے صرف مولویوںکو شرمندہ کرنے کے لئے یہ دعویٰ کیاہے اگریہ سب معافی مانگ لیں تو وہ فوراً اس دعویٰ کو باطل ثابت کردیںگے ان لوگوں کی مثال اس شخص کی طرح ہوتی ہے جو سخت حادثہ میںمبتلاہوتاہے اور اس کے دل میںایک خفیف جھلک امید کی پیدا ہوتی ہے کہ شاید یہ خواب ہی ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے بھی ا ٓپ سے یہی کہا کہ کیاتم ہم سے مذاق تو نہیں کررہے کیا یہ درست ہے کہ ہمارے باپ دادا بھی غلطی کرسکتے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیاکہ تمہارارب آسمان و زمین کارب اوران کاپیدا کرنے والا ہے اور میں اس پر دلیل سے قائم ہوںاوراس کا گواہ ہوں اور میںتمہارے گھروں کی طرف لوٹ جانے کے بعد تمہارے بتوں کےساتھ ایک تدبیر کروںگا۔مفسرین کہتے ہیں کہ یہ کلام ا ن میںسے کسی ایک نے سن لیاتھایاعید کو جاتے وقت سب سے آخر میں جو ضعفاء تھے ان میں سے بعض نے سن لیا(روح المعانی زیر آیت ھذا)مگر یہ کلام غالباً انہوںنے اپنے دل میںکہاتھا۔حالانکہ اس کے صرف اتنے معنے ہیںکہ جب انہوں نے دلائل سے نہ ماناتو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عملی صورت میں ان کے بتوں کی برائی ان پرظاہر کرنی چاہی۔جو زیادہ موثر دلیل ہوتی ہے۔چنانچہ اس نے بڑے بت کو چھوڑ کر باقی بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے کہ شاید وہ خدا تعالیٰ کی طرف