تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 577
دکھائی دےگا۔اور وہ کہے گا ذراٹھہرجائیں۔مجھے فلاں حکم کی سمجھ نہیں آئی بلکہ جس طرح ایک پٹھان کے متعلق مشہور ہے کہ اُس نے کہہ دیا ’’ خو۔محمد ؐ صاحب کا نماز ٹوٹ گیا ‘‘ کیونکہ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکتِ کبیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے(المختصر للقدوری باب صلٰوة الجمعة) اسی طرح وہ بعض باتوں کا انکار کرنے لگ جائےگا لیکن اگر ایک احمد ی کو لے جائو تو اُس کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ وہ کسی غیر مانوس جگہ میں آگیا ہے۔بلکہ جس طرح مشین کا پُرزہ فوراً اپنی جگہ پر لگ جاتا ہے اُسی طرح وہ ہاں پر فِٹ آجائےگا اور جاتے ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی بن جائےگا۔اور آپ کے ہر حکم کی بلاچون و چرا اطاعت کرنے لگ جائےگا اور ائمۂ اربعہ اس کے لئے کبھی ٹھو کر کا موجب نہیں بنیں گے کیونکہ وہ سمجھتا ہوگا کہ اصل حکم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ائمۂ اربعہ تو محض آپ کے غلام بلکہ شاگردوں کے بھی شاگرد ہیں۔یہ آیت جو آیت ِ استخلاف کہلاتی ہے اس میں مندرجہ ذیل امور بیان کئے گئے ہیں۔اوّل جس انعام کا یہاں ذکر کیا گیا ہے وہ ایک وعدہ ہے۔دوم یہ وعدہ امت سے ہے جب تک وہ ایمان اور عمل صالح پر کا ربندر ہے۔سوم اس وعدہ کی غرض یہ ہے کہ ( الف ) مسلمان بھی وہی انعام پائیں جو پہلی اُمتوں نے پائے تھے کیونکہ فرماتا ہے لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ( ب)اس وعدہ کی دوسری غرض تمکین دین ہے (ج) اس کی تیسری غرض مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دینا ہے (د) اس کی چوتھی غرض شرک کا دُور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام ہے۔اس آیت کے آخر میں وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس کے وعدہ ہونے پر زور دیا اور وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ( ابراہیم ۲ تا ۱۴ ع )کے وعید کی طرف توجہ دلائی کہ ہم جو انعامات تم پر نازل کرنے لگے ہیں اگر تم اُن کی ناقدری کرو گے تو ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔خلافت بھی چونکہ ایک بھاری انعام ہے۔اس لئے یاد رکھو جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔یہ آیت ایک زبر دست شہادت خلافتِ راشدہ پر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان مسلمانوں میں خلافت کا نظام قائم کیا جائے گا جو مؤید من اللہ ہوگا۔جیسا کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ اور وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ سے ظاہر ہے اور مسلمانوں کو پہلی قوموں کے انعامات میں سے وافر حصہ دلانے والا ہوگا۔پھر اس آیت میں خلفاء کی علامات بھی بتائی گئی ہیں