تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 555

اس کو چلایا۔دَفَعَہٗ بِرِ فْقٍ۔اُسے نرمی کے ساتھ آگے کیا۔پس یُزْجِیْ کے معنے ہوںگے چلاتا ہے۔ہانکتا ہے۔(اقرب) رُکَامًا۔الرُّکَامُ :اَلشَّیْءُ اَلْمُتَرَا کِمُ بَعْضُہٗ فَوْقَ بَعْضٍ۔یعنی رکام اس چیز کو کہتے ہیں جس کے کچھ حصے ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ہوں۔(اقرب) اَلْوَدْقُ۔اَلْوَدْقُ اَلْمَطَرُ۔ودق کے معنے بارش کے ہیں۔خواہ تھوڑی ہو یا بہت۔( اقرب) سَنَا۔اَلسَّنٰی :اَلْبَرْقُ سَنا کے معنے چمک کے ہوتے ہیں۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بادلوں کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے یعنی پانی کے ذروں کی شکل میں۔پھر اُن کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر ان کو تہ بہ تہ کر دیتا ہے۔یعنی بادل گھنے ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد تُو دیکھتا ہے کہ تھوڑی یا بہت بارش ( یہ ودق کے معنے ہیں ) اُن کے درمیان سے نکلتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ اپنے نور کو بھی اٹھاتا ہے تو وہ پہلے پانی کے ذرہ کی طرح ہلکا سا غبار معلوم ہوتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو طاقت بخشنا شروع کر تا ہے اور آخر وہ موسلادھار بارش کی طرح انسانوں پر برس جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں میں سے پہاڑ اتارتا ہے۔یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے جو کثرت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں فُلَانٌ یَمْلِکُ جِبَالًا مِنْ فِضَّۃٍ وَذَھَبٍ۔فلاں شخص کے پاس چاندی اور سونے کے پہاڑ ہیں یعنی چاندی سونا کثرت سے ہے۔یہاں بھی یہی مراد ہے کہ کبھی کبھی وہ بادلوں سے موسلا دھار بارش اتارتاہے نہ کہ پہاڑ اتارتا ہے۔اُس بارش میں اولے بھی ہوتے ہیں اور وہ جس پر چاہتا ہے اولے گِرا دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اولے ہٹا دیتا ہے۔یعنی خدا کی شریعت بعض لوگوں کے لئے ہدایت اور ترقی کا موجب ہو جاتی ہے اور بعض لوگوں کے لئے برفباری کے طور پر فصلیں تباہ کرنے کا موجب ہو جاتی ہے اور جس طرح کبھی کبھی بجلی کی روشنی آنکھوں کو اندھا کر دیتی ہے۔اسی طرح الٰہی شریعت کا نور بھی کبھی کبھی نہ ماننے والوں کو اندھا کر دیتا ہے اور بجائے فائدہ کے نقصان کا موجب ہو جاتا ہے پھر فرماتا ہےيُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِجس طرح خدا تعالیٰ رات اور دن کو ایک دوسرے سے بدلتا رہتا ہے عقلمند لوگ اس نظارہ سے یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسی طرح ہدایت اور کفر کے ادوار کا بدلنا بھی ضروری ہے۔