تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 554
گوشت کو ہضم کر سکتیں۔سو خدا نے انہیں ایسی انتڑیاں بھی دے دیں۔اسی طرح گھاس خور جانوروں کے لئے گھاس کھانے والے دانت اور گھاس ہضم کرنے والی انتڑیاں موجود ہیں۔اور پرندوں کو بھی ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے پر کھو ل کر اڑ سکتے ہیں کیونکہ ان کے لئے اپنی رہائش اور غذا کے لئے جو ّ میں اُڑنا ضروری ہے۔پس وہ اپنی ہیٔت سے خدا کی تسبیح کر رہے ہیں اور اُس کا فرض ادا کررہے ہیں۔جو پرندہ کے تعلق میں صلوٰۃ کے معنے ہیں اور ان باتوں کو دیکھ کر انسان کو ماننا پڑتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے اور اس کی طرف انسان کو جواب دہی کے لئے لوٹنا پڑے گا۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُزْجِيْ سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهٗ ثُمَّ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ (تعالیٰ) بادلوں کو آہستہ آہستہ ہانک کر لاتا ہے۔پھر اُن کے درمیان اتصال پیدا يَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ کر دیتا ہے پھر ان کو تہ بہ تہ بنا دیتا ہے۔پھر تو دیکھتا ہے کہ اُن کے اندر سے بارش ٹپکنے لگتی ہے۔اور وہ بادل میں يُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِيْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَيُصِيْبُ بِهٖ بہت بڑے حجم کی چیزیں گراتا ہے۔جن میں سے بعض اولوں کی قسم کی ہوتی ہیں۔پھر اس کو جس( قوم) تک مَنْ يَّشَآءُ وَ يَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ يَّشَآءُ١ؕ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ چاہتا ہے پہنچا دیتا ہے جس سے چاہتا ہے اُسے روک لیتا ہے۔قریب ہوتا ہے کہ اس کی بجلی کی روشنی يَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ۰۰۴۴يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ بعض آنکھوں کو اندھا کر دے۔اللہ (تعالیٰ) رات اور دن کو چکر دیتا رہتا ہے۔اس میں عقل فِيْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِي الْاَبْصَارِ۰۰۴۵ والے لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔حلّ لُغَات۔یُزْجِیْ یُزْجِیْ اَزْجٰی سے مضارع کا صیغہ ہے۔اور اَ زْجَاہُ کے معنے ہوتے ہیں سَاقَہٗ۔