تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 553
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ کیا تو دیکھتا نہیں کہ اللہ وہ ہے کہ جو آسمانوں اور زمین میں رہتے ہیں سب اُسی کی تسبیح کرتے ہیں۔اور پرندے الطَّيْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِيْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ صف باندھے ہوئے اس کے سامنے حاضر ہیں۔اُن میں سے ہر ایک (اپنی اپنی پیدائش کے مطابق )اپنی نماز عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ۰۰۴۲وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اور اپنی تسبیح کو جانتا ہے اور اللہ (تعالیٰ) جو کچھ وہ کرتے ہیں اُسے خوب جانتا ہے۔اور آسمانوں اور زمین کی اِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ۰۰۴۳ بادشاہت اللہ ہی کی ہے۔اور اللہ ہی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔حلّ لُغَات۔صَلٰوۃٌ۔اَلصَّلٰوۃُ مِنَ اللّٰہِ: اَلرَّحْمَۃُ۔جب اللہ تعالیٰ کے لئے صلوٰۃ کا لفظ استعمال ہو تو اُس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کا نزول ہوگا۔وَمِنَ الْمَلَائِکَۃِ: اَلْاِسْتِغْفَارُ اور جب ملائکہ کے لئے صلوٰۃ کا لفظ استعمال ہو تو یہ مراد ہوگی کہ ملائکہ استغفار طلب کرتے ہیں۔وَمِنَ الْمُؤ مِنِیْنَ: اَلدُّعَآءُ اور جب مومنوں کے لئے یہ لفظ استعمال ہو تو اُس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ مومن دعا مانگتے ہیں وَمِنَ الطَّیْرِ والْھَوَامِّ: اَلتَسْبِیحُ اور جب یہ لفظ کیڑوں مکوڑوں اور پرندوں کے لئے استعمال ہو تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ اشیاء خدا تعالیٰ کی بزبانِ حال پاکیزگی بیان کرتی ہیں۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اورزمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اپنے وجود سے خدا کی تسبیح کر رہا ہے ( یہ مراد نہیں کہ منہ سے کر ر ہا ہے ) اور پرندے بھی اپنے پر کھولے ہوئے جَوّ میں پھر رہے ہیں۔ان میں سےہر ایک اپنی نماز کا طریق بھی جانتا ہے اور تسبیح کا بھی اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اُسے جانتا ہے۔یعنی ہر ایک چیز اپنے وجود سے ثابت کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ بے عیب ہے کیونکہ اس کے لئے جس جس چیز کی ضرورت تھی وہ خدا تعالیٰ نے مہیا کی ہوئی ہے۔مثلاً گوشت خور جانوروں کے لئے گوشت کھانےوالے دانتوں کی ضرورت تھی۔سو خدا نے انہیں ایسے دانت مہیا کر دئے جن سے وہ گوشت کھا سکتے ہیں۔پھر انہیں اتنی لمبی انتڑیوں کی ضرورت تھی جو