تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 552

نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍؒ۰۰۴۱ تو باوجود کو شش کے اس کو دیکھ نہیں سکتا۔اور جس کے لئے اللہ نور نہ بنائے اس کو کہیں سے نور نہیں ملتا۔حلّ لُغَات۔لُجِّیٌّ۔اَللُّجُّ کے معنے ہیں معظم الْمَآ ئِ بہت پانی۔اورلُجِّيٌّ کے معنے ہوںگے بہت پانی والا۔( اقرب ) تفسیر۔فرماتا ہے کافروں کے اعمال کی کیفیت اُن تاریکیوں کی طرح ہے جو ایسے گہرے سمندر پر چھا جاتی ہیںجس پر موج پر موج چڑھی آتی ہے اور جس کے اوپر بادل چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ ایسی تاریکیاں ہوتی ہیںکہ ایک تاریکی کے اوپر دوسری تاریکی چھائی ہوئی ہوتی ہے۔اور جب انسان اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو باوجود کوشش کے اس کو دیکھ نہیں سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے اپنا نو ر چھین لیتا ہے یعنی جب تک قوم میں خدا کی شریعت رہتی ہے اُس میں نورقائم رہتا ہے۔لیکن جب قوم خدا کی شریعت سے مُنہ موڑ لیتی ہے تو ایک طرف اُس کے نفس کی تاریکیاں جوش مارنے لگ جاتی ہیں اور دوسری طرف خدا تعالیٰ بھی اپنے نور کو اُس سے کھینچ لیتا ہے۔اور لحظہ بہ لحظہ اس کے مصائب بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اس کی ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کو بھی نہیں دیکھ سکتا۔یعنی اس کے کام کرنے کے ذرائع بھی اُس سے غائب ہو جاتے ہیں۔اور جس کو خدا کا نور میسر نہ ہو اس کا یہ حال لازماً ہو تا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی شریعت کا اور کوئی قائم مقام نہیں۔ان آیات میں سمندر اور خشکی پر ظلمت چھانے اور انسانوں پر تباہی آنے کا ذکر کرنے کے یہ معنے تھے کہ مسلمان یہ نہ سمجھ لیں کہ قرآنی نور اور محمدی نور کے بعد اُن کے اندر زوال یا اندھیرا نہیں آسکتا۔اُن پر اندھیرے کا دور بھی آتا رہےگا اور اس دور کو دُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی وہی تدبیر کار گر ہوگی جو ہمیشہ سے کار گر ہوتی چلی آئی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی مصلح بھیجے گا جو اس کو دُور کرے گا۔پھر تاریکی ہوگی تو پھر خدا مصلح بھیجے گا۔پھر تاریکی ہوگی تو پھر بھیجے گا اور اس طرح اندھیروں کو دُور کرتا رہے گا۔