تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 551

اوقات میں اپنے ملائکہ کے ذریعہ اُن کے دلوںکوتسلی دیتا اور آئندہ حاصل ہونے والی اعلیٰ درجہ کی کامیابیوں کی بشارات دیتا ہے۔مگر دوسرے مذاہب والے صرف اگلے جہان کا وعدہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد تمہیں نجات حاصل ہوگی گویا وہ صرف موہوم وعدوں پر انسان کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور جس طرح سراب کو دیکھ کر ایک پیاس سے بے تاب انسان کے دل میں یہ غلط امید پیدا ہو جاتی ہے کہ میں دریا کی طرف جارہا ہوں حالانکہ وہ اپنی ہلاکت اور بربادی کی قبر کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔اسی طرح اسلام کے سوا دنیا میں جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیںچونکہ وہ اس دنیا میں الٰہی برکات کا کوئی نمونہ دکھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔نہ خدا تعالیٰ کا الہام اُن پر نازل ہوتا ہے نہ معجزات و نشانات سے اُن کی تائید ہوتی ہے۔نہ دعائوں کی قبولیت کا کوئی نمونہ اُن سے ظاہر ہوتا ہے اس لئے وہ صرف اگلے جہان کے انعامات کا وعدہ کرتے رہتے ہیںاور اس طرح اُن کے ماننے والوں کا ہر قدم سراب کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن موت کا زبرد ست ہاتھ انہیں اس دنیا سےجُدا کر دیتا ہے۔اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ آسمانی آب حیات سے کتنے دور رہے تھے اور غلط امیدوں نے انہیں کیسا تباہ کیا۔غرض یہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں ایک نمایاں فرق ہے جو اسلام کی فضیلت اور اس کے من جانب اللہ ہونےکا ایک زبر دست ثبوت ہے۔اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ يَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ یا (اُن کافروں کے اعمال کی کیفیت) اُن تاریکیوں جیسی ہے جو ایک گہرے سمندر پر چھائی ہوئی ہوتی ہیں جس پر مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ لہریں اُٹھ رہی ہوتی ہیںاور اُن لہروں پر اور لہریں اُٹھ رہی ہوتی ہیں اور اُن سب کے اوپر ایک بادل ہوتا ہے۔اَخْرَجَ يَدَهٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ یہ ایسی تاریکیاں ہوتی ہیں کہ اُن میں سے بعض بعض کے اوپر چھائی ہوئی ہوتی ہیں۔جب انسان اپنا ہاتھ نکالتا ہے