تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 524

اعزاز حاصل ہے وہ کم ہو جائے اور اُن کے آئندہ خلیفہ بننے کا کوئی امکان نہ رہے چنانچہ اسی امر کااللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْ بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا ہے وہ تم لوگوں میں سے ہی مسلمان کہلانے والا ایک جتھا ہے۔مگرفرماتا ہے لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ تم یہ خیال مت کرو کہ یہ الزام کوئی برا نتیجہ پیدا کرے گا بلکہ یہ الزام بھی تمہاری بہتری اور ترقی کا موجب ہوجائےگا چنانچہ لو اب ہم خلافت کے متعلق اصول بھی بیان کر دیتے ہیں اور تم کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ یہ منافق زورمار کر دیکھ لیں یہ ناکام رہیں گے۔اور ہم خلافت کو قائم کرکے چھوڑیں گے کیونکہ خلافت نبوت کا ایک جزو ہے اور الٰہی نور کے محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔پھر فرماتا ہےلِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ۔ان الزام لگانے والوں میں سے جیسی جیسی کسی نے کمائی کی ہے ویسا ہی عذاب اُسے مل جائےگا۔چنانچہ جو لوگ الزام لگانے کی سازش میں شریک تھے انہیں اسّی اسّی کوڑے لگائے گئے۔پھر فرمایا وَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔مگر ان میں سے ایک شخص جو سب سے بڑا شرارتی ہے اور جو اس تمام فتنہ کا بانی ہے یعنی عبداللہ بن ابی ابن سلول اُسے نہ صرف ہم کوڑے لگوائیں گے بلکہ خود بھی عذاب دیں گے۔چنانچہ اس وعید کے مطابق اُسے کوڑوں کی سزا بھی دی گئی ( السیرۃ الحلبیۃ باب مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوة بنی المصطلق ) اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی اُسے عذاب مل گیا۔اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہلا ک ہوگیا اور حضرت ابوبکر ؓ آپ کے بعد خلیفہ ہوگئے اس طرح یہ عذاب اُسے اس رنگ میں بھی ملا کہ غزوہ بنومصطلق میں ایک معمولی سی بات پر جب انصار اور مہاجرین کا آپس میں جھگڑا ہو گیا تو عبداللہ بن ابی ابن سلول جو ہمیشہ ایسے موقعوں کی تاک میں رہتا تھا۔اُس نے انصار کو بھڑکا تے ہوئے کہا کہ اے انصار ! یہ تمہاری اپنی ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔تم نے مہاجرین کوپناہ دی اور اب وہ تمہارے سر چڑھ گئے ہیں۔تم مجھے مدینہ پہنچنے دو۔وہاںکا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ خود مدینہ کے سب سے زیادہ ذلیل آدمی یعنی ( نعوذ باللہ )محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دےگا۔عبداللہ بن ابی ابن سلول کا بیٹا ایک نہایت ہی مخلص نوجوان تھا۔اُس نے یہ الفاظ سُنے تو وہ بے تاب ہوگیا اور وہ بھاگتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میرے باپ نے ایسی ایسی بات کہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان الفاظ کی سزا موت کے سوا او ر کوئی نہیں ہو سکتی۔میں صرف اتنی درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیں تو یہ حکم کسی اور کو نہ دیں بلکہ خود مجھے دیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اور شخص اُسے قتل کر دے تو بعد میں کسی وقت اُسے دیکھ کر مجھے جوش آجائے اور میں اُس پر حملہ کر بیٹھوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم اُسے کوئی سزا نہیں دینا