تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 523

صرف عبداللہ بن ابی ابن سلول ہی نہیں دیکھ رہا تھا بلکہ بعض اور لوگ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔چنانچہ مسیلمہ کذاب کی نسبت بھی حدیثوں میں آتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے عرض کیا کہ میرے ساتھ ایک لاکھ سپاہی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ اپنی جماعت کے ساتھ آپ کی بیعت کر لوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام میں چھوٹے اور بڑے کی کوئی تمیز نہیں۔اگر تم پر حق کھل گیا ہے تو تم بیعت کر لو۔وہ کہنے لگا میں بیعت کرنے کے لئے تو تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔آپ نے فرمایا وہ کیا ؟ وہ کہنے لگا میری شرط یہ ہے کہ آپ تو عرب کے بادشاہ بن ہی گئے ہیں لیکن چونکہ میری قوم عرب کی سب سے زیادہ زبردست قوم ہے اس لئے میں اس شرط پر آپ کی بیعت کرتا ہوں کہ آپ کے بعد میں عرب کا بادشاہ ہوں گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اُس وقت کھجور کی ایک شاخ تھی۔آپ نے مسیلمہ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تم تو یہ کہتے ہو کہ محمد ؐرسول اللہ اگر اپنے بعد مجھے اپنا خلیفہ مقرر کردیں تو میں ان کی بیعت کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن میں تو خدا کے حکم کے خلاف یہ کھجور کی شاخ بھی تم کو دینے کے لئے تیار نہیں ہوں۔اس پر وہ ناراض ہو کر چلا گیا (بخاری کتاب المغازی باب وفد بنی حنیفۃ و حدیث ثمامة بن اثال)۔اور اپنی تمام قوم سمیت مخالفت پر آمادہ ہو گیا۔تومسیلمہ کذاب نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بادشاہت ملنے کی آرزو کی تھی۔یہی حال عبداللہ بن ابی ابن سلول کا تھا۔چونکہ منافق اپنی موت کو ہمیشہ دُور سمجھتا ہے اور وہ دوسروں کی موت کے متعلق اندازے لگاتا رہتا ہے۔اس لئے عبداللہ بن ابی ابن سلول بھی اپنی موت کو دُور سمجھتا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے گا۔وہ یہ قیاس آرائیاں کرتا رہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں عرب کا بادشاہ بنوں۔لیکن اب اُس نے دیکھا کہ ابوبکر ؓ کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف نہیں لاتے تو ابوبکر ؓ آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فتویٰ پوچھنے کا موقعہ نہیں ملتا تو مسلمان ابو بکر ؓ سے فتویٰ پوچھتے ہیں یہ دیکھ کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی اُمیدیں لگائے بیٹھا تھا سخت فکر لگا۔اور اُس نے چاہا کہ اس کا ازالہ کرے۔چنانچہ اسی امر کا ازالہ کرنے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہوں سے گرانے کے لئے اُس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ ؓ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ ؓ سے نفرت پیدا ہواور حضرت عائشہ ؓ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ حضرت ابو بکر ؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو