تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 522

مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ ؓ کو بہت تکالیف پہنچائی جارہی تھیں اس لئے اہل مدینہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ مدینہ تشریف لے آئیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ ؓ سمیت مدینہ ہجرت کرکے آگئے(السیرة النبویة لابن ہشام نبذ من ذکر المنافقین و بدء اسلام ا لانصار العقبۃ الاولٰی) اور عبداللہ بن ابی ابن سلول کے لئے جو تاج تیار کروایا جا رہا تھا وہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔کیونکہ جب انہیں دونوں جہانوں کا بادشاہ مل گیا تو انہیں کسی اور بادشاہ کی کیا ضرورت تھی۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ دیکھا کہ اس کی بادشاہت کے تمام امکانات جاتے رہے ہیں تو اسے سخت غصہ آیا اور گووہ بظاہر مسلمانوں میں مل گیا مگر ہمیشہ اسلام میں رخنے ڈالتا رہتا تھا۔اور چونکہ اب وہ اور کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لئے اس کے دل میں اگر کوئی خواہش پیدا ہو سکتی تھی تو یہی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں مدینہ کا بادشاہ بنوں لیکن خدا تعالیٰ نے اس کے اس ارادہ میں بھی اسے زک دی کیونکہ اس کا اپنا بیٹا بہت مخلص تھا۔جس کے معنے یہ تھے کہ اگر وہ بادشاہ ہو بھی جاتا تو اس کے بعد حکومت پھر اسلام کے پاس آجاتی اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے اُسے اس رنگ میں بھی زک دی کہ مسلمانوں میں جونہی ایک نیا نظام قائم ہوا انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف سوالات کرنے شروع کر دئے کہ اسلامی حکومت کا کیا طریق ہے۔آپ کے بعد اسلام کا کیا بنے گا اور اس بارہ میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔عبداللہ بن ابی ابن سلول نے جب یہ حالت دیکھی تو اُسے خوف پید ا ہونے لگا کہ اب اسلام کی حکومت ایسے رنگ میں قائم ہوگی کہ اُس میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا اور وہ ان حالات کو روکنا چاہتا تھا۔چنانچہ اس کے لئے جب اس نے غور کیا تو اُسے نظر آیا کہ اگر اسلامی حکومت کو اسلامی اصول پر کوئی شخص قائم کر سکتا ہے تو وہ ابو بکر ؓ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نظریں انہی کی طرف اٹھتی ہیں۔اور وہ اُسے تمام لوگوں سے معزز سمجھتے ہیں۔پس اُس نے اپنی خیر اسی میں دیکھی کہ ان کو بدنام کرد یا جائے۔اور لوگوں کی نظروں سے گِرا دیا جائے بلکہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے بھی آپ کو گرا دیا جائے اور اس بدنیتی کے پورا کرنے کا موقع اُسے حضرت عائشہ ؓ کے ایک جنگ میں پیچھے رہ جانے کے واقعہ سے مل گیا اور اس خبیث نے آپ پر ایک نہایت گندا الزام لگا دیا جو قرآن کریم میں تو اشارۃً بیان کیا گیا ہے لیکن حدیثوں میں اس کی تفصیل آتی ہے۔عبداللہ بن ابی ابن سلول کی اس سے غرض یہ تھی کہ اس طرح حضرت ابوبکر ؓ ان لوگوں کی نظروں میں بھی ذلیل ہو جائیں گے اور آپ کے تعلقات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خراب ہو جائیںگے اور اس نظام کے قائم ہونے میں رخنہ پڑجائےگا جس کا قائم ہونا اُسے یقینی نظر آتا تھا اور جس کے قائم ہونے سے اس کی اُمیدیں برباد ہو جاتی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت کے خواب