تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 492

گھروں میں آئیں ایسی دیکھی بھالی ہوں کہ گویا تمہاری اپنی ہی عزیز ہیں۔پھر فرماتا ہے۔اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ۔عورتوں کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنی لونڈیوں کے سامنے اظہارِ زینت کر لیا کریں۔کیونکہ لونڈیاں بھی گھر کے افراد کی طرح ہی سمجھی جاتی ہیں لیکن اس کے یہ معنے نہیں جیسا کہ بعض مفسرین نے غلطی سے سمجھا ہے کہ عورتوں کو اپنے غلاموں کے سامنے آنے میں کوئی حرج نہیں(قرطبی زیر آیت ھٰذا) کیونکہ غلام صرف ایسی صور ت میں پکڑنے جائز ہوتے ہیں جب دشمن قوم سے خونریز جنگ ہو اور جنگ بھی سیاسی بنیادوں پر نہیں بلکہ مذہبی بنیادوں پر لڑی گئی ہو۔اور جب ایسی دشمن قوم کے بر سرِ جنگ افراد کو سزا کے طور پر پکڑا گیا ہو تو یہ سوال ہی کس طرح پیدا ہو سکتا ہے کہ اُن سے اپنی عورتوں کا پردہ ہٹا یا جائے یا نہ ہٹایا جائے۔جب شریعت اپنی قوم کے شریف مردوں سے بھی عورتوں کو پردہ کرنےکا حکم دیتی ہے تو ایک دشمن قوم کے افراد سے پردہ اُتارنے کا خیال کسی ایسے شخص کے دماغ میں ہی آسکتا ہے جو عقل اور فہم سے عاری ہو چکا ہو۔پس اس جگہ غلاموں کا کوئی ذکر نہیں بلکہ صرف لونڈیوں کا ذکر ہے اور وہ بھی ایسی لونڈیوں کا جن پر انہیں پوری طرح اعتماد ہو۔جس طرح نِسَآىِٕهِنَّ میں ہر قسم کی آوارہ گر د اور اخلاق باختہ عورتیں شامل نہیں بلکہ صرف ایسی ہی عورتیں شامل ہیں جو ہر طرح اعتماد کے قابل ہوں۔اور جن کی شرافت او ر وفاداری بالکل بے داغ ہو۔غَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ۔بعض نے اس آیت کے معنوں میں مخنث کو بھی شامل کیا ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث سے پردہ کا حکم دیا ہے۔چنانچہ آپ نے ایک دفعہ اپنی بیویوں سے فرمایا کہ اگر مخنث آئے تو اُس سے بھی پردہ کرو۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ یہ باہر جا کر دوسرے مردوں سے باتیں کرتے ہیں اور اس طرح اشاعت فحش کا موجب ہوتے ہیں۔( ابو داؤد کتاب اللباس باب قولہ تعالیٰ غیر اولی الاربۃ و ابن ماجہ کتاب النکاح باب فی المخنثین و مسند احمد بن حنبل مسند ام سلیمؓ) اس سے معلوم ہو اکہ یہاںغَيْرِ اُولِي الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ سے مخنث مراد نہیں بلکہ ایسے ملازم مراد ہیں جو بوڑھے ہوں اور احساسِ شہوت سے اس قدر عاری ہو چکے ہوں کہ انہیں بدی کا کوئی خیال بھی نہ آسکے۔مخنث چونکہ جوان بھی ہو سکتے ہیں اور بوجہ ایک عارضی ذریعہ سے نامرد بنا دینے کے اُن کی شہوت اور اُن کا غصہ تیز ہو جاتا ہے اس لئے اُن کو اس میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔علاوہ ازیں چونکہ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ انسانی شکل کو بگاڑنا شیطان کا کام ہے جیسا کہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ شیطان نے کہا وَلَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ۔( النساء :۱۲۰) یعنی میرے کہنے پر لوگ خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورتوں میں بھی تبدیلی کر دیا کر یں گے۔اس لئے مخنث بنانا اسلام میں