تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 487
عورت کے باہمی تعلقات کی ابتداء ہمیشہ دونوں کی نظریں ملنے سے ہوتی ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی پر نظر پڑتی ہے تو خواہ دوسرے کی نظر نیچی ہی ہو تب بھی اس پر اثر پڑ جاتا ہے۔اس لئے یہ حکم تبھی مفید ہو سکتا تھا جبکہ دونوں کو دیا جاتا اور دونوں کو اس امر کا پابند کر دیا جاتا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھیں۔نہ مرد عورتوں کی طرف دیکھیں اور نہ عورتیں مردوں کی طرف دیکھیں۔وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَاظَھَرَ مِنْھَا پھر فرماتا ہے۔اچھے اچھے کپڑے اور زیور پہن کر لوگوں کو دکھاتی نہ پھرو۔ہاں جو چیز خود بخود ظاہر ہو جائے۔اس کے ظاہر ہونے میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔مَا ظَھَرَ مِنْھَا کے متعلق مفسرین میں اختلاف پیدا ہوا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے۔بعض نے کہا ہے کہ اس سے کپڑے مراد ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ ایسے زیورات مراد ہیں جو عورتوں کے ہاتھوں اور پائوں میں ہوتے ہیں۔جیسے انگوٹھی اور کڑے اور پازیب وغیرہ۔بعض نے کہا ہے کہ کہنیوں تک ہاتھ مراد ہیں۔بعض نے کہا ہے کہ اوپر کا برقعہ یا چادر مراد ہے۔بعض نے اس کے ہاتھوں کی مہندی مراد لی ہے (فتح البیان زیر آیت ھٰذا)لیکن قرآن کریم نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا یعنی سوائے اس کے جو آپ ہی آپ ظاہر ہو۔یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ جو چیز خود بخود ظاہر ہو شریعت نے صرف اس کو جائز رکھا ہے۔یہ نہیں کہ جس مقام کو کوئی عورت آپ ظاہر کرنا چاہے اس کا ظاہر کرنا اس کے لئے جائز ہو۔میرے نزدیک آپ ہی آپ ظاہر ہونے والی موٹی چیز یں دو۲ ہیں یعنی قد اور جسم کی حرکات اور چال لیکن عقلاً یہ بات ظاہر ہے کہ عورت کے کام کے لحاظ سے یا مجبوری کے لحاظ سے جو چیز آپ ہی آپ ظاہر ہو وہ پردے میں داخل نہیں۔چنانچہ اسی اجازت کے ماتحت طبیب عورتوں کی نبض دیکھتا ہے کیونکہ بیماری مجبور کرتی ہے کہ اس چیز کو ظاہر کر دیا جائے۔اگر منہ پر کوئی جلدی بیماری ہو تو طبیب مونہہ بھی دیکھے گا۔اگر اندرونی بیماری ہو تو زبان دیکھے گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک جنگ میں ہم پانی لاتی تھیں اور ہماری پنڈلیاں ننگی ہو جاتی تھیں۔اُس وقت پنڈلیوں کا ننگا ہو نا قرآن کریم کے خلاف نہ تھا بلکہ اس قرآنی حکم کے مطابق تھا۔جنگی ضرورت کے لحاظ سے ضروری تھا کہ عورتیں کا م کرتیں اور دوڑنے کی وجہ سے پنڈلیاں خود بخود ننگی ہو جاتی تھیں (بخاری کتاب المغازی باب اذا ھمت طائفتان۔۔۔)کیونکہ اس وقت پاجامے کا نہیں بلکہ تہ بند کا رواج تھا۔اسی اصل کے ماتحت اگر کسی گھرانے کے مشاغل ایسے ہوں کہ عورتوں کو باہر کھیتوں میں یا میدانوں میں کام کرنا پڑے تو اُن کے لئے آنکھوں سے لےکر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہو گا۔اور پردہ ٹوٹا ہوا نہیں سمجھا جائےگا کیونکہ بغیر اس کے کھولنے کے وہ کام نہیں کر سکتیں۔اور جو حصہ ضروریات زندگی کے لئے اور ضروریاتِ معیشت کے لئے کھولنا پڑتا ہے اس کا کھولنا پر