تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 486
نیچے چھپے ہوئے ہوں۔اور یہ چیز ممنوع نہیں اصل چیز جو پردہ کی جان ہے اور جس کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے وہ دونوں کی نظر کو ملنے سے بچانا ہے اور جسم کا وہ حصہ جس پر نگاہ ڈالتے ہوئے آنکھیں ملنے سے رہ ہی نہیں سکتیں۔یا اس امر کی احتیاط نہایت مشکل ہو جاتی ہے وہ چہرہ ہی ہے۔بقیہ جسم کو جبکہ وہ مناسب کپڑوں سے ڈھکا ہوا ہو نہ چھپانے کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اُسے چھپایا جا سکتا ہے جب تک کہ عورتیں بازاروں اور گلیوں میں پھرنا نہ چھوڑ دیں۔یا قناتیں تان کر وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر نہ کریں۔اوریہ ناممکن امر ہے۔امراء کی عورتیں تو پھر بھی اپنے مکانوں کی وسیع چاردیواری میں پھر سکتی ہیں مگر غرباء اور اوسط طبقہ کی عورتیں کس طرح گذارہ کریں۔مگر امراء کی عورتوں کو بھی میل ملاقات کے لئے ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف جانا پڑتا ہے اور ان کی نظر بھی لازماً گلیوں اور سڑکوں پر پھرنے والے اور بر آمدوں اورا سٹیشنوں اور گاڑیوں پر بیٹھنے والے لوگوں کے بعض حصہ جسم پر پڑےگی اور مردوں کی نظر ان کے جسم کے بعض حصوں پر پڑےگی سو ائے اس صورت کے کہ گھر سے نکلتے ہی عورتوں اور مردوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جائیں تاکہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ ہی نہ سکیں۔مگر کوئی عقلمند اس کو جائز قرار نہیں دے سکتا۔پس غضِ بصر کے حکم کا یہ منشا ء نہیں کہ عورت کے لئے مرد کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر ڈالنا منع ہے یا مرد عورت کے جسم کے کسی حصہ پر بھی نظر نہیں ڈال سکتا بلکہ صرف دونوں کی نگاہوں کو آپس میں ملنے سے بچانا ہے ورنہ جو عورت بھی باہر نکلے گی اُس کے پائوں او ر اُس کی چال اور اس کا قد اور اس کے ہاتھوں کی حرکت اور ایسی ہی اور کئی چیزیں مردوں کو نظر آئیں گی۔اسی طرح مرد کے جسم کے کئی حصے عورتوں کو نظر آئیں گے اور یہ چیز ایسی ہے جس پر شریعت نے کوئی پابندی عائد نہیں کی۔لیکن عورت کا بلا حجاب مرد کے سامنے آنا اور اس کے ساتھ بے تکلف ہونا چونکہ انسان کے حیوانی تقاضوں کو جوش دلاتا اور اسے جذبات کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔اس لئے شریعت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے اور عورت کو پردہ کا حکم دےد یا ہے۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم کا یہ طریق نہیں ہے کہ وہ عورتوں کو الگ مخاطب کر کے ان کو وہی حکم دے جو مردوں کو دیا گیا ہو بلکہ جو حکم مردوں کے لئے ہو اُس میں عورتیں بھی شامل ہو تی ہیں مگر یہاں پہلے مومن مردوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھیں اور اس طرح اپنے فروج کی حفاظت کریں۔اور پھرقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ کہہ کر مومن عورتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے فروج کی حفاظت کریں۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس معاملہ میں پیشہ کے طور پر عورتوں میں ہی یہ برائی پائی جاتی ہے اس لئے ضروری تھا کہ عورتوں کو الگ بھی مخاطب کیا جا تا اور اُن کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا جاتا۔لیکن اس کے علاوہ علم النفس کے ماتحت مرد و