تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 482

ملے کہ واپس چلے جائو مگر ایک صحابی ؓ بھی یہ جواب نہیں دیتا۔اور دوسری طرف اس صحابی ؓ میں بھی کس قدر اخلاص تھا کہ سالہا سال اُس نے ایسا موقعہ تلاش کرنے میں لگا دئیے۔لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ مَسْكُوْنَةٍ تمہارے لئے اُن گھروں میں داخل ہونا گناہ کا موجب نہیں جن میں کوئی رہتا نہیں اور تمہارا سامان اُس میں پڑا ہے فِيْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ۰۰۳۰ اور اللہ( تعالیٰ) اُسے بھی جانتا ہے جسے تم ظاہر کرتے ہو اور اُسے بھی جسے تم چھپاتے ہو۔تفسیر۔اس آیت میں ایک نئی حالت کا ذکر کیا کہ اگر کوئی گھر ہو تو کسی غیر کا لیکن اس میں کوئی خاندان رہتا نہ ہو بلکہ تم نے اپنا زائد سامان رکھنے کے لئے اُسے کرایہ پر لیا ہوا ہو یا مانگا ہوا ہو۔تو اُس کے متعلق یہ قانون ہے کہ اُس میں بغیر اجازت کے داخل ہونا تمہارے لئے جائز ہے کیونکہ اگر وہ مکان تم نے کرایہ پر لیا ہوا ہے تو عملاً وہ تمہارا ہی ہے اور اگر مانگا ہوا ہے تو پھر بھی مالک کی اجازت سے وہ مکان تمہارا ہی سمجھا جائےگا۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا تَکْتُمُوْنَ میں پہلے حکم کے نتیجہ میں جو وساوس پیدا ہو سکتے تھے اُن کا رد کیا ہے اور بتایا ہے کہ اگر تمہارے دل میں یہ خیال گذرے کہ ایسی قیدوں سے تو تمدن خراب ہو جائےگا۔تو تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ وساوس درست نہیں۔یہ قیدیں تمہاری بھلائی کے لئے ہیں تم کو تکلیف میں ڈالنے کے لئے نہیں۔صرف اس لئے ہیں کہ تم ہوشیار ہو جائو اور پہلے سے احتیاطیں اختیار کرلو تاکہ نقصان اٹھانے سے محفوظ ہو جائو۔قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوْا تو مومنوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيْرٌۢ بِمَا یہ اُن کے لئے بہت پاکیزگی کا موجب ہوگا۔جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ (تعالیٰ) اُس سے اچھی طرح خبردار ہے