تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 478
سمن جاری کر دیا۔اتفاقاً آپ اُسے ملنے چلے گئے۔قاضی نے اُن سے ذکر کیا کہ ایسا ایسا دعویٰ آپ کے خلاف ہوا ہے اور میں نے سمن جاری کر دیا ہے۔امام ابنِ تیمیہ ؒ نے کہا کہ آپ نےقرآن وحدیث کے حکم کے خلاف کیا ہے۔آپ کو سمن جاری کرنے سے پہلے معاملہ کی تحقیق کرنی چاہیے تھی کیونکہ میری شہرت اس الزام کے خلاف ہے۔پس چاہیے تھا کہ آپ مدعی سے ثبوت طلب کرتے اور اگر کوئی معقول ثبوت اس کے پاس ہوتا تو پھر بے شک مجھے اپنی برأت پیش کرنے کے لئے بلاتے۔قاضی نے ان کی اس دلیل کو قبول کر لیا اور ان کے سمن کو منسوخ کر دیا۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى اے مومنو ! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں نہ داخل ہو ا کرو جب تک کہ اجازت نہ لے لو۔تَسْتَاْنِسُوْا وَ تُسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَهْلِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اور داخل ہونے سے پہلے اُن گھروں میں بسنے والوں کو سلام کرو۔یہ تمہارے لئے اچھا ہوگا اور لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۰۰۲۸فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِيْهَاۤ اَحَدًا فَلَا اس( فعل) کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تم( نیک باتوں کو ہمیشہ) یاد رکھو گے۔اور اگر تم اُن گھروں میں کسی کو نہ پائو تب بھی تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى يُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِيْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا اُن میں داخل نہ ہو جب تک کہ تمہیں (گھر والوں کی طرف سے )اجازت نہ مل گئی ہو۔اور اگر (کوئی گھر میں ہو اور) فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ۰۰۲۹ تم سے کہا جائے کہ اس وقت چلے جائو تو تم چلے آئو یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ ہو گا اور اللہ تمہارے کاموں کو خوب جانتا ہے۔حل لغات۔تَسْتَاْ نِسُوْا۔اٰنَسْتُ مِنْہُ کَذَا کے معنے ہوتے ہیں عَلِمْتُ میں نے معلوم کیا اور جب اِسْتَاْنَسْتُ کہیں تو اس کے معنے ہوں گے اِسْتَعْلَمْتُ۔میں نے یہ کوشش کی کہ کسی بات کے متعلق علم حاصل کروں۔زجاج جو لغت کے امام ہیں و ہ کہتے ہیں کہ آیت لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًاغَیْرَ بُیُوْ تِکُمْ حَتّٰی تَسْتَاْنِسُوْا میں