تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 477
اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ۠ وَ الْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ١ۚ وَ الطَّيِّبٰتُ خبیث باتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث باتو ں کے لئے ہیں اور پاک باتیں پاک مردوں لِلطَّيِّبِيْنَ وَ الطَّيِّبُوْنَ لِلطَّيِّبٰتِ١ۚ اُولٰٓىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک باتوں کے لئے ہیں۔یہ سب لوگ ان باتوں سے جو (دشمن) کہتے ہیں پاک ہیں۔يَقُوْلُوْنَ١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌؒ۰۰۲۷ اُن کے لئے بخشش اور معزز رزق (مقدر) ہے۔تفسیر۔بعض لوگ اس آیت کے یہ معنے کرتے ہیں کہ خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لئے ہیں۔(بحر محیط زیر آیت ھذا)لیکن یہ معنے واقعات کے بھی خلاف ہیں اور عقل کے بھی خلاف ہیں۔قرآن کریم نے حضرت لوط ؑاور حضرت نوح علیہم السلام کی بیویوں کو مجرم قرار دیا ہے۔تو کیا حضرت لوط ؑ اور حضرت نوح ؑ کو بھی مجرم قرار دیا جا ئےگا ؟ اصل بات یہ ہے کہ پہلی آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ بری باتیں برے مردوں کے لئے ہیں اور برے مرد بری باتوں کے لئے ہیں۔اور پاک باتیں پاک مردوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک باتوں کے لئے ہیں چنانچہ آیت کا آخری حصہ ان معنوں کی تائید کرتا ہے جس میں فرمایا ہے کہ پاک مرد اور پاک عورتیں اُن الزاموں سے جو اُن پر لگائے جاتے ہیں پاک ہیں۔اسی طرح ضمنی طور پر اس آیت سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اَلَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ والی آیت بھی مرد و عورت دونوں کے لئے ہے کیونکہ مضمون کے خاتمہ پر جو نتیجہ نکالا گیا ہے اُس میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل کیا ہے۔یہ آیت درحقیقت ایک عام قانون پر مشتمل ہے اور اس میں بتلایا گیا ہے کہ الزام قبول کرنے سے پہلے ملزم کی عام حیثیت کو دیکھ لو۔اگر وہ عام طور پر نیک سمجھا جاتا ہے تو بادی النظر میں الزام کو فوراً جھوٹا قرار دے دو اسی طرح یہ بھی دیکھ لو کہ الزام لگانے والے کن اخلاق کے آدمی ہیں۔اور آیا وہ گواہِ عادل ہیں یا نہیں۔اگر وہ راستباز نہ ہوں یا اُن کی دماغی کیفیت قابل تسلی نہ ہوتو ان کی گواہی کو کسی صورت میں بھی قابلِ قبول نہیں سمجھا جا ئےگا۔تاریخ قضاء میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے امام ابن تیمیہ ؒ کے خلاف ایک دعویٰ کیا۔قاضی نے آپ کے خلاف