تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 476
دماغ کے مطابق عمل کر چکے ہیں تو ہاتھ کی بات بیان ہو چکی اور اگر زبان دماغ کے مطابق عمل کرچکی ہے تو زبان کی بات بیان ہو چکی۔اگر دماغ نے یہ کہا تھا کہ چوری کرو تو پیروں نے بتا دیا کہ وہ فلاں گھر میں چوری کرنے کے لئے گئے تھے۔لیکن اگر دماغ میں ایک بات آئی اور ہاتھ پائوں سے اُس نے عمل نہیں کروایا۔تو پھر اسلامی اصول کے ماتحت اُس کے نام ایک نیکی لکھی جائے گی۔کیونکہ ہاتھ پیر جو دماغ کے تابع تھے اُن کا دماغ کے حکم پر عمل نہ کرنا بتاتا ہے کہ دماغ نے اپنی رائے بدل لی تھی۔پس رائے بدلنے کی وجہ سے وہ نیکی کا مرتکب ہو گا بدی کا نہیں اور چونکہ وہ نیکی لکھی گئی اس لئے اس کو شر مندگی دلانے والی باتوں میں اُسے بیان نہیں کیا گیا کیونکہ ایک طرف خدا کا اُس کو نیکی قرار دینا اور دوسری طرف اس کو باعث فضیحت بنانا یہ خدا کے انصاف کے خلاف تھا۔اگر تو وہ اس کو بدی قرار دیتا تو پھر بے شک اس کا فضیحت کی جگہ پر ذکر کر سکتا تھا۔لیکن اُس نے تو خود فیصلہ کر دیا کہ ایسا بُرا خیال بھی نیکی تصور کیا جائےگا جس پر عمل نہ کیا گیا ہو۔اور جب وہ نیکی تصور ہوگی تو اُسے فضیحت کا ذریعہ کس طرح بنایا جا سکتا تھا ؟ اس آیت پر عموماً یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ہاتھ پائوں کس طرح گواہی دیں گے ؟ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ ہر چیز کی زبان الگ الگ ہوتی ہے جس سے اُس کی حالت ظاہر ہوتی ہے۔دیکھو ہاتھ کی زبان کا تو سب لوگ مشاہدہ کرتے ہی رہتے ہیں۔طبیب آتا ہے اور نبض دیکھ کر بتا دیتا ہے کہ یہ یہ تکلیف ہے۔مگر اس کے علاوہ اب نئی تحقیق سے یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ جس عضو کی کوئی حرکت ہو اس پر اس کا ایک نشان پڑجاتا ہے اسی طرح ہر حرکت کا ایک نشان جَو ّپر بھی پڑتا ہے جو محفوظ رہتا ہے۔بے تار برقی کی ایجاد اسی اصول پر ہے کہ ایک جگہ کی حرکت کا جَوّ پر جو اثر پڑتا ہے دوسری جگہ آلہ کے ذریعہ اسے معلوم کر لیا جاتا ہے۔پس اس آیت کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ ان اعضاء کی جو حرکات ہیں اُن کے اثرات اُن پر پڑتے ہیں لیکن دنیا میں انسانی نظر ایسی تیز نہیں ہوتی کہ ان اثرات کو دیکھ سکے مگر قیامت کے دن انسانی نظر بہت تیز کر دی جائےگی جو ان نشانات کو بھی دیکھ لےگی۔اور یہ ان اعضاء کی شہادت ہوگی جو اُن کے خلاف ہوگی۔ہاں جو لوگ تو بہ کرکے وفات پاتے ہیں اُن کے اعضاء پر جو اثرات ہوںگے وہ مٹا دئیے جائیں گے کیونکہ تو بہ کرنے والوں کے گناہ اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔