تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 475

گواہی دیں گے اور اللہ تعالیٰ اُن کے اعمال کے مطابق اُن کو جزا دے گا اور اللہ تعالیٰ کی بات ہی آخر پوری ہو کر رہا کرتی ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ جو شخص انسانوں پر الزام لگاتا ہے وہ آخر خدا تعالیٰ پر بھی الزام لگانا شروع کر دیتا ہے۔کیونکہ اس میں الزام لگانے کی عادت بڑھتی چلی جاتی ہے۔فرماتا ہے ایسے لوگ جو انسانوں پر الزام لگاتے ہیں کسی دن خدا تعالیٰ پر بھی الزام لگانا شروع کر دیں گے اور قیامت کے دن اُن کے اعضاء اُن کے خلاف گواہی دیں گے اور بتائیں گے کہ دنیا میں یہ لوگ خدا تعالیٰ کے متعلق کیا کیا بد ظنیاں کرتے رہے ہیں اور انسانوں کے متعلق کیا کیا بد ظنیاں کرتے رہے ہیں۔گویا اس دن مجرموں پر اُن کے اعمال کی حقیقت ظاہر کرنےکے لئے الٰہی ریکارڈنگ مشین کی سوئی اُن کی زبان پر رکھ دی جائےگی اور زبان بولنا شروع کر دے گی کہ حضور فلاں دن اس نے خدا کو گالی دی۔فلاں دن اس نے نبیوں کو گالی دی۔فلاں دن اس نے اپنے ہمسائے کو گالی دی۔فلاں دن اس نے اپنی بیوی کو گالی دی۔فلاں دن اس نے حرام کا مال چکھا۔اور فلاں دن اس نے یہ یہ الزام لگایا۔غرض یہ سارے کا سارا ریکارڈ زبان بیان کرنا شروع کر دےگی۔پھر ہاتھوں پر سوئی رکھی جائےگی تو ہاتھ بولنا شروع کر دیں گے کہ فلاں دن اس نے فلاں کو مارا اور فلاں دن اس نے ان کا یوں مال اٹھایا۔پھر پائوں بیان کرنا شروع کر دیں گے کہ فلاں رات کو فلاں کے گھر سیندھ لگانے کے لئے یا فلاں کا مال اٹھانے کے لئے یااس کو قتل کرنے کے لئے یا اور کوئی نقصان پہنچانے کے لئے یہ شخص گیا۔غرض کانوں آنکھوں اور چمڑوں کے علاوہ زبانیں بھی اور ہاتھ اور پائوں بھی اپنے اپنے حصّہ کے ریکارڈسنائیں گے۔اور ظاہر ہے کہ اس کے بعد انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہتے ہیں۔ـ’’ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ‘‘۔جب اپنے ہاتھ گواہی دے رہے ہوں کہ ہم نے یہ یہ کچھ کیا تھا۔اپنی زبان گواہی دے رہی ہو کہ میں نے یہ کچھ کیا تھا تو اب وہ فرشتوں کو کس طرح کہہ سکیں گے کہ یہ جھوٹ بو ل رہے ہیں۔ممکن ہے کوئی شخص کہہ دے کہ یہاں دماغ کا کیوں ذکر نہیں کیا گیا۔حالانکہ تمام گناہوں کی ابتداء دماغ سے ہی ہوتی ہے اور ہاتھ پائوں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اور پھر بسا اوقات دماغی گناہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے کرنے کا ہاتھ پائوں کو موقعہ نہیں ملتا اس کے متعلق یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ اسلامی شریعت میں یہ قانون ہے کہ جو چیز دماغ میں آتی ہے لیکن اُس پر عمل نہیں کیا جاتا۔وہ بدی شمار نہیں کی جاتی بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی بدی کا خیال کرتا ہے لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اُس کے نامۂ اعمال میں وہ ایک نیکی کی صورت میں لکھی جاتی ہے۔(بخاری کتاب الرقاق باب من ھمّ بحسنۃ او سیئۃ)پس دماغ کو اس لئے شامل نہیں کیا گیا کہ اگر تو ہاتھ