تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 457
حفاظت کے لئے ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس قسم کی باتیں کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق ہو جاتا ہے مگر بہت ہیں جو ایسی باتیں سنتے ہیں اور سنتے ہی نہیں آگے پہنچاتے ہیں۔اور جب پوچھا جائے تو کہہ دیتے ہیں کہ یونہی بات منہ سے نکل گئی تھی حالانکہ اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرماتا ہے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنا دیتی ہے۔پس اس بہت بڑے گناہ سے بچو اور کوشش کرو کہ کبھی تمہارے منہ سے کسی کے متعلق ایسی بات نہ نکلے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے علم النفس کا ایک ایسا نکتہ بیان کیا ہے جو قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا ایک زبر دست ثبوت ہے۔کیونکہ علم النفس کی تحقیق پہلے زمانہ میں نہیں ہوئی تھی یہ تحقیق انیسویں صدی میں شروع ہوئی اور اب بیسویں صدی میں اس نے ایک علم کی صورت اختیار کی ہے۔وہ مسئلہ جو قرآن کریم نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ بری باتوں کا مجالس میں تذکرہ نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہی برائیاں لوگوں میں کثرت کے ساتھ پھیل جائیں گی۔بے شک دنیا میں لوگ کثرت سے ڈاکہ اور چوری وغیرہ برے افعال سے نفرت کرتے ہیں لیکن باوجود اس کے میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کا ذکر لوگوں میں کثرت سے ہونے لگے تو تھوڑے ہی دنوں میں تم دیکھو گے کہ ڈاکہ کی وارداتیں زیادہ ہونے لگی ہیں۔جیسے گجرات ، شیخوپورہ اور گوجرانوالہ وغیرہ اضلاع میں کئی بڑے بڑے شریف نمازی اور تہجد گذار کہلانے والے دوسرے کی بھینس کھول کر گھر لے آئیں گے۔اور اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں کریں گے کہ انہوں نے کوئی برا کام کیا ہے۔میرے ایک دفعہ گھوڑے چوری ہو گئے تو ایک احمدی نے جو پہلے چوروں کے ساتھ مل کر چوریاں کیا کرتے تھے مجھے کہلا بھیجا کہ آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم سارے علاقہ کو سیدھا کر دیتے ہیں۔میں نے پیغامبر کو جواب دیا کہ اُن سے کہہ دینا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بڑھاپے میں توبہ کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اب یہی بہتر ہے کہ آپ اپنی توبہ پر قائم رہیں اور اس کو توڑنے کی کوشش نہ کریں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور گھوڑے دے دےگا۔غرض بعض علاقوں میں جانوروں کی چوری کی اتنی کثرت ہے کہ اسے اعلیٰ درجہ کا بہادری کا فن سمجھا جاتا ہے مثلاً گجرات کے علاقہ میں ہی بعض اقوام میں پہلے یہ رواج ہوا کرتا تھا گو غالباً اب نہیں کہ بیٹے کو پگڑی نہیں پہناتے تھے جب تک وہ ایک چوری کی بھینس اپنی بہن کو لا کر نہ دیتا تھا۔لڑکا جب جوان ہوجاتا اور پگڑی اس کے سر پر نہ ہوتی تو اپنے رشتہ دار اسے طعنے دیتے اور کہتے بے حیا اتنا بڑا ہو گیا ہے مگر اب تک اس سے اتنا بھی نہیں ہو سکا کہ ایک بھینس چُرا کر اپنی بہن کو لا دےاور اپنے سر پر پگڑی بند ھوائے۔ا س طرح ہر نوجوان کو چوری پر مجبور کیا جاتا اور وہ