تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 456
اور کیوں ایسا نہ ہوا کہ جس وقت یہ بہتان تم نے سنا تھا تو تم نے فوراً کہہ د یا ہوتا کہ ہمیں زیبا نہیں کہ ہم ایسی بات منہ سے نکالیں۔جس نے یہ بات بیان کی ہے وہ گواہ لائے اور اس الزام کو ثابت کرے۔ہمارا اس سے کیا تعلق ہے کہ ہم سنیں اور دوسروں کوسنائیں۔یہ ایک بہت بڑا بہتا ن ہے جو دوسرے پر لگا یا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو ایسی بات پھر کبھی منہ سے نہ نکالنا۔اِنَّ الَّذِيْنَ يُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِيْعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا یقیناً جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بدی پھیل جائے اُن کے لئے بڑا دردناک عذاب ہے لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ١ۙ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ( تعالیٰ) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اور اگر اللہ (تعالیٰ) کا فضل وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۲۰وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ اور رحم تم پر نہ ہوتا اور اگر اللہ (تعالیٰ) بہت مہربان (اور) با ر بار رَحْمَتُهٗ وَ اَنَّ اللّٰهَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۲۱ رحم کرنےوالا نہ ہوتا (تو تم دکھ میں پڑ جاتے)۔حلّ لُغَات۔تَشِیْعَ شَاعَ الْخَبَرُ ( یَشِیْعُ) کے معنے ہوتے ہیں ذَاعَ وَفَشَا۔خبر پھیل گئی۔( اقرب) پس اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃَ کے معنے ہوں گے کہ بدی پھیل گئی۔اَلْفَاحِشَۃَ۔اَلْفَاحِشَۃَ اَلزِّنٰی فاحشہ کے معنے ہوتے ہیں زنا مَا یَشْتَدُّ قُبْحُہٗ مِنَ الذُّنُوْبِ۔وہ گناہ جس کی برائی بہت سخت ہو۔وَقِیْلَ کُلُّ مَانَھَی اللّٰہُ عَنْہٗ اور بعض کے نزدیک فاحشہ کے معنے ہر اس امر کے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ایسی باتیں کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ فحش پر دلیر ہو جاتے ہیں۔کیونکہ جب نوجوان سنتے ہیں کہ ہمارے بڑے بھی ایسے کام کر لیتے ہیں تو وہ بھی ایسے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔پس اس جر م پر جو سخت سز ا تجویز کی گئی ہے تو وہ صرف فرد کی عزت کی حفاظت کے لئے نہیں بلکہ قوم کی عزت اور اس کے اخلاق کی