تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 432
اس روایت سے حضرت علی ؓ کے متعلق بھی یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اُن کے نزدیک کوڑے مارنے کا حکم قائم ہے اور یہ آیت منسوخ نہیں۔چنانچہ حضرت علی ؓ کے متعلق بخاری میں ایک روایت آتی ہے کہ ایک عورت شرحۃ الھمدانیۃ کو آپ نے کوڑے بھی لگوائے اور رجم بھی کیا اور پھر فرمایا۔جَلَدْتُّھَا بِکِتٰب اللّٰہِ وَرَجَمْتُھَا بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ( مسند احمد بن حنبل مسند علی بن ابی طالب ؓ) یعنی میں نے کوڑے تو خدا کے حکم کے مطابق لگائے ہیں۔اور رجم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کیا ہے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس آیت کو منسوخ نہیں قرار دیتے تھے۔حضرت عبادۃ ابن الصامت ؓ کی روایت ہے کہ کنواری سے زنا سرزد ہو جائے تو اس کی سزا میں ایک سال کی جلاوطنی بھی زائد کر دی گئی تھی اور بیاہی ہوئی عورت سے زنا سرزد ہو جائے تو کوڑوں کے علاوہ اس کے لئے رجم کا بھی اضافہ کر دیا گیا تھا ( مسلم کتاب الحدود باب حد الزنٰی) اس سے بھی حضرت علی ؓ والے خیال کی تصدیق ہو تی ہے کہ قرآنی آیت منسوخ نہیں بلکہ قرآنی حکم کے ساتھ ایک چیز کا اپنی طرف سے اضافہ کیا گیا تھا پس یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ قرآنی حکم یہی ہے کہ اگر کسی عورت یا مرد سے زنا صادر ہو جائے تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیبل کی تعلیم کے مطابق اپنے استدلال سے یہودی مذہب کی سزا کو پہلے جاری کیا اس کے بعد چونکہ قرآنی حکم نازل ہو گیا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ہم محض عارضی حکم کہیں گے مستقل حکم نہیں کہیں گے کیونکہ مستقل حکم آپ کا وہی ہوتا ہے جس کے متعلق قرآنی حکم موجود نہ ہو۔اس کا ثبوت اس طرح بھی ملتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں قبلہ بھی یہودیوں کے طریق کے مطابق بیت المقدس کو ہی رکھا تھا۔لیکن جب قرآن کریم میں یہ حکم نازل ہو اکہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کیا جائے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کر لیا۔چنانچہ دوسرے پارہ کے شروع میں اس کا ذکر آتا ہے(البقرۃ:۱۴۵)۔اسی طرح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ بعض دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قوم کی اصلاح کے لئے ایک حکم فرما دیا کرتے تھے لیکن وہ دائمی حکم نہیں ہوتا تھا۔مثلاً بخاری میں ہی آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ وفد عبدالقیس آیا اور اُس نے کہا یا رسول اللہ !ہمیں کوئی خاص ہدایت دیجئیے۔آپ نے فرمایا فلاں فلاں چارقسم کے برتن استعمال نہ کئے جائیں ( بخاری کتاب الایمان باب اداءا لخمس من الایمان ) لیکن قریباً سب مسلمان آج اُن برتنوں کو استعمال کرتے ہیں اور سب فقہاء کہتے ہیں کہ یہ برتن جائز ہیں اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ اُن لوگوں میں رواج تھا کہ اس قسم کے برتنوں میں وہ شراب بناتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی اس عادت کو چھڑانے کے لئے حکم دے دیا کہ یہ برتن استعمال نہ کیا کرو۔ان برتنوں کے