تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 431
اسی طرح امت محمدؐ یہ میں سے معتزلین اور خوارج کا یہ عقیدہ ہے کہ رجم قرآن سے ثابت نہیں۔اسلامی حکم یہی ہے کہ سوکوڑے لگائے جائیں۔چنانچہ لکھا ہے کہ اَمَّا الرَّجْمُ فَھُوَ مُجْمَعٌ عَلَیْہِ وَحُکِیَ فِی الْبَحْرِ عَنِ الْخَوَارِجِ اَنَّہٗ غَیْرُ وَاجِبٍ وَکَذٰلِکَ حَکَاہُ عَنْھُمْ اَیْضًا اِبْنُ الْعَرَبِیِّ وَحَکَاہُ اَیْضًا عَنْ بَعْضِ الْمُعْتَزِ لَۃِ کَالنَّظَامِ وَاَصْحَابِہٖ وَلَا مُسْتَنَدَ لَھُمْ اِلَّا اَنَّہٗ لَمْ یُذْکَرْ فِی الْقُرْاٰنِ ( نیل الاوطار کتاب الحدود باب ما جاء فی رجم الزانی المُحصن و جَلدالبکر وتغریبہ )یعنی نیل الاوطاروالا کہتا ہے کہ رجم پر سب مسلمان متفق ہیں لیکن کتاب بحر میں خوارج سے روایت کی گئی ہے کہ رجم ہر گز اسلام میں واجب نہیں اور حضرت محی الدین صاحب ابن عربی ؒ جو صوفیا کے سردار ہیں انہوں نے بھی خوارج کا یہی مذہب بیان کیا ہے اور ابن العربی ؒ نے نظام اور اُن کے ساتھیوں کا مذہب بھی یہ بیان کیا ہے (جو معتزلی تھے ) کہ رجم اسلام سے ثابت نہیں لیکن ان لوگوں کے پاس سوائے اس کے کوئی دلیل نہیں کہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں۔اس حوالہ سے ثابت ہے کہ خوارج اور معتزلہ کے نزدیک رجم کا حکم اسلام میں نہیں ہے لیکن نیل الاوطار کے نزدیک یہ دلیل بالکل کمزور ہے کیونکہ یہ دلیل صرف قرآن پر مبنی ہے۔اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ روح المعانی میں لکھا ہے۔وَیُعْلَمُ مِنْ قَوْلِہِ الْمَذْکُوْرِ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْھَہٗ اَ نَّہٗ قَائِلٌ بِعَدْمِ نَسْخِ عُمُوْمِ الْاٰیَۃِ فَیَکُوْنُ رَأ یُہٗ اَنَّ الرَّجْمَ حُکْمٌ زَائِدٌ فِیْ حَقِّ الْمُحْصِنِ ثَبَتَ بِالسُّنَّۃِ وَبِذٰلِکَ قَالَ اَھْلُ الظَّاھِرِ وَھُوَرِوَایَۃٌ عَنْ اَحْمَدَ وَاسْتَدَلُّوْا عَلیٰ ذٰلِکَ بِمَا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدُ مِنْ قَوْلِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَرَمْیٌ بِالْحِجَارَۃِ وَفِیْ رِوَایَۃِ غَیْرِہٖ وَرَجْمٌ بِالْحِجَارَۃِ وَعِنْدَ الْحَنْفِیَّۃِ لَا یُجْمَعُ بَیْنَ الرَّجْمِ وَالْجَلْدِ فِی الْمُحْصِنِ وَھُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِیِّ( روح المعانی زیر آیت ھٰذا)یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہ‘ کے قول سے یہ ثابت ہے کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ قرآن کریم کی سورۃ نور والی آیت جس میں کوڑوں کا ذکر ہے منسوخ نہیں۔پس معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ کے نزدیک رجم کا حکم ایک زائد حکم تھا جو سنت سے ثابت ہے وہ حکم قرآن کو منسوخ کرنے والا نہیں۔اور اہل ظاہر یعنی ابو دائودؒ جو فقہاء خمسہ میں سے ایک بڑے رکن ہیں اور امام احمد بن حنبل ؒ زیاد ہ تر اُن کے حکم کو ترجیح دیتے ہیں وہ اور ان سے تعلق رکھنے والے بھی اس مذہب کے قائل ہیں اور امام احمد بن حنبل ؒ سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔اور یہ لوگ ابو دائود ؒ کی اس روایت سے سند پکڑتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اَلثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَرَمْیٌ بِالْحِجَارَۃِ۔یعنی شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت کو سو کوڑے لگائے جائیں اور پتھر مارے جائیں۔