تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 425

یہ بات ہو تو ہمارا حق ہے کہ جس طرح ہم علماء کے قیاسات کو دلیل کے ساتھ رد کر سکتے ہیں قرآن کریم کی آیتوں کو بھی ہم دلیل کے ساتھ رد کردیں۔اور یہ ایک نہایت ہی گمراہ کن اور غیر اسلامی عقیدہ ہو گا۔پس صرف یہ صورت رہ جاتی ہے کہ ہم کہیں کہ رجم کا کوئی حکم پہلے موجود تھا۔جسے قرآن کریم کی اس آیت نے منسوخ کر دیا۔اگر یہ بات مانی جائے تو سارا مسئلہ ہی صاف ہو جاتا ہے اور شکل یہ بنتی ہے کہ یہود میں رجم کا حکم موجود تھا ( دیکھو یوحنا باب ۸ آیت ۵ وحزقی ایل باب ۱۶ آیت ۴۰ واحبار باب ۲۰ آیت ۱۰ واستثناء باب ۲۲ آیت ۲۲) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے ماتحت مسلمانوں میں بھی یہی طریق جاری کیا کیونکہ اُس وقت تک قرآن کریم نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔جب قرآن کریم نے فیصلہ کر دیا تو پہلا طریق منسوخ ہو گیا جو قرآنی حکم نہیں تھا بلکہ اتباع یہود میں ایک اسلامی دستور قائم ہوا تھا۔مگر اس عقیدہ کے ماننے کے لئے ضروری ہے کہ تاریخی طور پر یہ ثابت کیا جائے کہ رجم پر مسلمانوں کا عمل سو کوڑے مارنے کے عمل سے پہلے تھا لیکن تاریخ سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی۔بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رجم کرنے کا طریق مسلمانوں میں بعد میں بھی جاری رہا اور حضرت عمرؓ کے متعلق تو یہاں تک بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں رجم کی ایک آیت تھی جو کہ بعد میں غائب ہو گئی۔اور وہ اس کے الفاظ یہ بتا تے ہیں کہ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ ( کشف الغمّۃعن جمیع الامّة کتاب الحدود فی حد الزنا باب وما جاء فی رجم الزانی المحصن) ایک بڑی عمر والا مرد یا ایک بڑی عمر والی عورت جب زنا کریں تو اُن کو پتھر مار کر کلّی طور پر قتل کر دو۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لَقَدْ نَزَ لَتْ اٰیَۃُ الرَّجْمِ وَالرَّضَاعَۃِ فَکَانَتَا فِیْ صَحِیْفَۃٍ تَحْتَ سَرِیْرِیْ فَلَمَّا مَاتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَشَاغَلْنَا بِمَوْتِہٖ فَدَخَلَ دَاجِنٌ فَاَکَلَھَا ( محلّٰی ابن حزم کتاب الحدود ،مسألۃ حد الحر و الحرۃ غیرالمحصنین )یعنی رجم اور رضاعت کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو ا تھا۔اور وہ ایک کاغذ پر لکھا ہوا تھا اور میرے تکیہ کے نیچے پڑا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ہم آپ کے کفن دفن میں مشغول ہو گئے۔اتنے میں ایک بکری آئی اور وہ اُس کا غذ کو کھا گئی۔ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے نزدیک کوئی آیت اُتری تھی جس میں زانی کو رجم کرنے کاحکم تھا۔حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکم آپ کے تکیہ کے نیچے رکھا ہو اتھا اور ایک بکری اُ س کو کھا گئی۔اور حضرت عمر ؓ اس کے متعلق خاموش ہیں۔اگر اُن سے کوئی روایت ثابت ہے تو صرف یہ کہ کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ اِیَّاکُمْ اَنْ تَھْلِکُوْا فَیَقُوْلَ قَائِلٌ لَا نَجِدُ